گھانا کا کھلاڑی، اسرائیل کا جھنڈا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گھانا کی فٹ بال ایسوسی ایشن نے عالمی کپ کا ایک میچ جیتنے کے بعد اپنے ایک دفاعی کھلاڑی کی طرف سے اسرائیل کا جھنڈا لہرانے پر معذرت کی ہے۔ گھانا کے ایک دفاعی کھلاڑی جان پینٹسل نے عالمی کپ میں جمہوریہ چیک کے خلاف میچ جیتنے کے بعد اسرائیل کا جھنڈا لہرایا تھا۔جان پینسٹل اسرائیل میں کلب فٹ بال کھیلتے ہیں۔ گھانا فٹ بال ایسوسی ایشن کے ترجمان رینڈی ایبے نے کہا کہ گھانا فٹ بال اسرائیل اور فلسطین جھگڑے میں کسی کی طرف داری نہیں کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ’ پینسٹل عالمی سیاست سے نابلد ہے اور ہم ہر اس شخص سے معافی مانگتے ہیں جس کی اس واقعے سے دل آزاری ہوئی ہو۔‘ فٹ بال ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ آئندہ گھانا کا کوئی کھلاڑی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور جان پینسٹل کا یہ فعل نہ تو عربوں کے خلاف نفرت فٹ بال ایسوسی ایشن کے ترجمان نے جان پنسٹل نے یہ سب کچھ سادگی میں کیا اور اس کو سزا دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ فیفا کے ایک ترجمان نےکہا کہ ان کو کھلاڑی کی اس حرکت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ البتہ اسرائیل کے وزیر کھیل نے کہا ہے کہ جان پنسٹل نے اسرائیل کاجھنڈا لہرا کر اسرائیلیوں کے دل جیت لیے ہیں اور خود کو ایک اسرائیلی ثابت کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر نے کہا اسرائیلیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اب گھانا کی ٹیم کے حمایتی ہے۔ | اسی بارے میں فٹبال ورلڈ کپ 200608 June, 2006 | منظر نامہ پرتگال، گھانا فاتح امریکہ اٹلی برابر 17 June, 2006 | کھیل پاپا راتزی فٹبالروں کی بیویوں کے پیچھے18 June, 2006 | کھیل ’مین آف میچ کااعزاز نہیں لیں گے‘15 June, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||