ایورسٹ سر: خود اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمالیہ پہاڑ کی ایک قوم کے ایک کوہ پیما - - -شرپا- - - نے سولہویں مرتبہ ایورسٹ کی چوٹی سر کر کے خود اپنا ہی قائم کردہ ایک ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اپّا شرپا نے جن کی عمر پینتالیس برس ہے انتیس ہزار پینتیس فٹ بلند پہاڑ پر پہنچ کر سولہویں بار چوٹی پر پہنچنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ وہ بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کی رہنمائی کرتے کرتے ایورسٹ کے بلند ترین مقام تک پہنچ گئے۔ نیپال کی کوہ پیما ایسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ شرپا مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچے۔ آج تک چودہ سو افراد نے دنیا کے اس بلند ترین پہاڑ ایورسٹ کو سر کیا ہے۔ پہلی مرتبہ اس پہاڑ کی چوٹی کو انیس سو ترپن میں سر کیا گیا تھا۔ ایورسٹ کو سر کرنے کی مہم کے دوران ایک سو اسی کوہ پیما ہلاک ہوئے ہیں۔ نیپال کی کوہ پیما ایسوسی ایشن کے صدر آنگ تسیرنگ شرپا کا کہنا ہے کہ اپّا نے ایورسٹ کی چوٹی سر کر کے خود اپنا ہی قائم کردہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ شرپا جو ایک مقامی ہمالیائی قبیلہ ہے ایورسٹ کو سر کرنے والی عالمی ٹیموں کی رہنمائی کا کام کرتا ہے اور کوہ پیماؤں کا سامان اوپر لے جانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ نیپال کی وزارتِ سیاحت کا کہنا ہے کہ اس برس اب تک نوے افراد نے جن میں سے پینتالیس غیر ملکی ہیں، ایورسٹ کو سر کیا ہے۔ اسی برس ایورسٹ کو سر کرنے کی کوششوں کے دوران دو کوہ پیما اور تین شرپا ہلاک ہو چکے ہیں۔ اپّا نے پہلی بار انیس سو نواسی میں ایورسٹ کی چوٹی سر کی تھی۔ چوٹی کو سر کر کے اپّا کو جو پیسے ملتے ہیں ان سے وہ اپنے چار بچوں کی تعلیم اور اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں مصنوعی ٹانگوں سے ایورسٹ سر17 May, 2006 | کھیل آسٹریلیا کا جوان اور ایورسٹ کا خواب14 March, 2006 | پاکستان ایورسٹ سر کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ21 May, 2004 | نیٹ سائنس ایورسٹ ناپنے والا ہندوستانی21 October, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||