آسٹریلیا کا جوان اور ایورسٹ کا خواب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کا رہنے والا ایک پندرہ سالہ نوجوان دنیا کی سب سے بڑی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اگر یہ نوجوان ایورسٹ کو سر کر لیتا ہے تو وہ تاریخ کا سب سے کم سن کوہ پیما ہوگا جو ایورسٹ کو سر کرے گا۔ نوجوان کرسٹوفر حارث جنہوں نے پہلے ہی دنیا کی سات بڑی چوٹیوں میں سے چار سر کر لی ہیں، پانچ برس کی عمر سے پہاڑوں پر چڑھنے کے شوقین ہیں۔ انہوں نے مقامی اخبار سنڈے مارننگ ہیرالڈ کو بتایا: ’میں کچھ نروس ہوں۔ لیکن میں پرجوش اور خوش بھی ہوں اور دل چاہتا ہے کہ بس میں اس چوٹی (ماؤنٹ ایورسٹ) کو سر کر لوں۔‘ انیس سو بائیس سے آج تک اس پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں ایک سو چھیاسی افراد کوہ پیما ہلاک ہوچکے ہیں۔ حارث سڈنی سے تقریباً پینتیس کلومیٹر دور رہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے ’ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچنا اور وہاں سے ادھر ادھر کا منظر دیکھنا کتنا حیران کن ہوگا۔‘ حارث کی ٹیم میں ان کے والد رچرڈ اور آسٹریلیا کے نامور کوہ پیما لنکن ہال شامل ہوں گے۔ اس وقت ماؤنٹ ایورسٹ کو انتہائی کم عمری میں سر کرنے کا اعزاز شرپا منگ کیپا کے پاس ہے اور ان خاتون نے یہ چوٹی پندرہ برس کی عمر میں سر کی تھی۔ تاہم اگر کرسٹوفر بھی چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں جس کا ارادہ وہ مئی کے مہینے میں رکھتے ہیں تو اس وقت ان کی عمر شرپا سے تین ماہ کم ہوگی۔ نیپال کی حکومت نے سولہ برس سے کم عمر افراد کے چوٹی سر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن کرسٹوفر حارث اس چوٹی کو شمال کی جانب سے سر کرنا چاہتے ہیں اور حصہ تبت کا ہے۔ | اسی بارے میں ایورسٹ سر کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ21 May, 2004 | نیٹ سائنس ایورسٹ: گولڈن جوبلی29.05.2003 | صفحۂ اول ایورسٹ ناپنے والا ہندوستانی21 October, 2003 | صفحۂ اول ایورسٹ کے ریکارڈ پر جھگڑا16.06.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||