سری لنکا نے میچ بچالیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا نے انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں پہلےٹیسٹ کی دوسری اننگز میں نو وکٹوں کے نقصان پر پانچ سو سینتس رن بنا کر میچ ڈرا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سری لنکا کے چمندا واس اور نوان کلسکرا نے نویں وکٹ کی شراکت میں ایک سو پانچ رن کی ریکارڈ پاٹنرشپ کی۔ کلسکرا نے چونسٹھ رن بنائے جبکہ چمندا واس نے پچاس رن بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ انگلینڈ کی ٹیم نے دونوں کے کیچ بھی چھوڑ دیئے۔ پانچویں روز خراب روشنی کے باعث جب میچ ختم ہوا تو سری لنکا انگلینڈ کے اسکور سے ایک سو اٹہتر رن آگے تھا۔ خراب موسم کی وجہ سے کھیل کئی بار تعطل کا شکار ہواجس سے انگلینڈ ٹیم کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ کے کپتان اینڈریو فلنٹاف نے سری لنکا کی نویں وکٹ کی شراکت توڑنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا اور کسی ٹیسٹ اننگز میں انہوں نے پہلی مرتبہ پچاس عشاریہ ایک اوور گیند کرائی۔ دوسری اننگز میں سری لنکا کی طرف سے سنگاکارا نے پینسٹھ اور تھرنگا نے باون رن بنائے۔ دونوں کو مونٹی پنیسر نے آؤٹ کیا۔ کپتان مہیلا جے وردھنے نصف سنچری بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس سے قبل انگلینڈ نے تیسرے روز سری لنکا کو فالو آن پر مجبور کر دیا تھا۔ انگلینڈ کے چھ وکٹوں پر پانچ سو اکیاون رن کے جواب میں سری لنکا کی ٹیم ایک سو بانوے رن بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔ پہلی اننگز میں سری لنکا کی طرف سے سب سے زیادہ رن اکسٹھ جے وردھنے نے بنائے تھے۔ انگلینڈ کی طرف سے میتھیو ہوگارڈ نے چار اور ساجد محمود نے جن کا یہ پہلا ٹیسٹ میچ ہے تین کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔ اسی دوران ہوگارڈ نے اپنے کیریئر کی دو سو وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔ سری لنکا کی پہلی اننگز کے اختتام تک وہ دو سو ایک کھلاڑی آؤٹ کر چکے تھے۔ سری لنکا کی ٹیم | اسی بارے میں سری لنکا کو فالو آن کا خطرہ12 May, 2006 | کھیل انگلینڈ کی عمدہ بیٹنگ 11 May, 2006 | کھیل مرلی دھرن:سری لنکا کے ’ڈینجر مین‘10 May, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||