سری لنکا کو فالو آن کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ اورسری لنکا کے مابین لارڈز میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز سری لنکا نے انگلینڈ کے پانچ سو اکاون رنز کے جواب میں اکانوے رنز بنائے اور اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔ سری لنکا کو فالو آن سے بچنے کے لیے ابھی ڈھائی سو سے زیادہ رنز کی ضرورت ہے اور اس کے پاس صرف چار وکٹیں باقی ہیں۔ کپتان مہیلا جے وردھنے چالیس کے انفرادی سکور پر ناٹ آؤٹ ہیں۔ انگلینڈ کی جانب سے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے فاسٹ بولر ساجد محمود نے اپنے پہلے چار اوروں میں سری لنکا کے تین کھلاڑی آؤٹ کر کے سری لنکن بیٹنگ کی کمر توڑ دی۔ انگلینڈ کے دوسرے کامیاب بولر میتھو ہوگارڈ تھے جنہوں نے سری لنکا کے دونوں اوپنروں کو جلد ہی پویلین روانہ کر دیا۔ سری لنکا کے ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔ اس سے پہلے انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز 551 رنز پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ انگلینڈ نے اتنا بڑا سکور صرف چھ وکٹوں کے نقصان پر بنایا۔ انگلینڈ کے بڑے سکور میں سب سے نمایاں کردار نوجوان بیٹسمین کیون پیٹرسن کا تھا جنہوں نے ایک سو اٹھاون کی شاندار اننگز کھیلی۔ پال گولنگوڈ نے بھی پیٹرسن کا اچھے ا نذاز میں ساتھ نبھایا۔ انگلینڈ نے دوسرے روز کا آغاز تین وکٹوں کےنقصان پر تین سواٹھارہ رنز سے کیا اور چائے کے وقفے تک چھ وکٹوں کے نقصان پر 551 رنز بنا کر اننگز ڈیکلئیر کرنے کا اعلان کر دیا۔ سری لنکا کا کوئی بولر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا اور مشہور سپنر مرلی دھرن اڑتالیس اوروں میں ایک سو اٹھاون رنز دے کر صرف تین وکٹ حاصل کر سکے جبکہ میڈیم فاسٹ بولر چمندا واس نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ میچ کے پہلے روزانگلینڈ کے کپتان اینڈریو فلنٹاف نےٹاس جیت کا پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ سری لنکا کی ٹیم | اسی بارے میں مرلی دھرن:سری لنکا کے ’ڈینجر مین‘10 May, 2006 | کھیل واس فٹ، اتاپتو کی واپسی مشکوک08 April, 2006 | کھیل 2011 کا عالمی کپ ایشیا میں30 April, 2006 | کھیل ’دورہِ انگلینڈ کے لیئے دستیاب ہوں‘09 May, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||