اصل مقابلہ آفریدی اور پٹھان میں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک بھارت ون ڈے سیریز کے پہلے میچ کو دیکھنے ارباب نیاز سٹیڈیم میں خواتین کافی تعداد میں موجود تھیں۔ دو سو نشستوں کے الگ انکلوژر کے علاوہ خواتین دوسرے انکلوژر میں بھی بیٹھی میچ سے لطف اٹھا رہی تھیں جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ خواتین کے معاملے میں پس ماندہ سمجھے جانے والے اس شہر کی خواتین کو کرکٹ کا کتنا شوق ہے۔ ان خواتین کا دعوی تھا کہ انہیں کرکٹ کی پوری سمجھ ہے وہ یونہی سٹیڈیم میں نہیں آئیں بلکہ کرکٹ سے اور دو اچھی ٹیموں کی درمیان ہونے والی معیاری کرکٹ سے لطف اٹھانے آئی ہیں۔ خواتین انکلوژر میں بیٹھی ہوئی ثناء کہتی ہیں کہ پشاور کی خواتین کو کسی سے پیچھے نہ سمجھیں وہ خود اپنے کالج میں کرکٹ کھیلتی ہیں اور انہیں کرکٹ کی فیلڈ کی تمام جگہوں کے نام آتے ہیں۔ ثناء نے کہا کہ ’میں جانتی ہوں کہ کیچ کہاں پکڑا گیا اور دیکھیں کہ ابھی سلمان بٹ نے ڈیپ سکؤئر لیگ پر کتنا اچھا کیچ لیا ہے‘۔
ثناء کے مطابق انہوں نے پاک بھارت کرکٹ سیریز کے تمام ٹیسٹ میچ ٹی وی پر دیکھے۔ کراچی کے علاوہ باقی میچ تو بور تھے لیکن ان میں کافی اچھی بیٹنگ دیکھنے کو ملی۔ انگریزی میں لکھے پوسٹر ’میں عرفان پٹھان کو پسند کرتی ہوں‘ کو اٹھائے مہوش کا کہنا تھا کہ عرفان پٹھان بھارتی ٹیم کا سب سے اچھا کھلاڑی ہے۔ مہوش کا کہنا تھا کہ عرفان نے کراچی ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک کی اور آج سے پہلےایک روزہ میچ میں بھی ان کی بیٹنگ بہت اچھی تھی۔ وہ بلا شبہ ایک اچھے آل راؤنڈر ہیں۔ مسز جاوید جو اپنی بچیوں کے ہمراہ میچ دیکھنے آئیں تھیں ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹیوں کو کرکٹ اتنی ہی پسند ہے جتنی کہ ان کے بیٹوں کو اور وہ اپنی بیٹیوں کے اصرار پر سٹیڈیم آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ہمیشہ سےپاک بھارت کرکٹ میچ کی شوقین رہیں ہیں۔ ’ایسٹ اور ویسٹ آفریدی از دا بیسٹ‘ اور’ آفریدی ہمارا شیر ہے باقی ہیر پھیر ہے‘ کے نعرے لگاتی ہوئی پشاور کی ان خواتین کا پسندیدہ کھلاڑی تو شاہد آفریدی ہی ہے۔ | اسی بارے میں ون ڈے سیریز کا چیلنج، تیاری مکمل05 February, 2006 | کھیل پشاور: شائقین پر لاٹھی چارج06 February, 2006 | پاکستان پشاور: ’میچز کروائے جائیں‘06 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||