بھارت کا لیڈنگ بالر، ظہیر خان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ 2002 میں آئی سی سی کی کینیا میں ہونے والے ناک آؤٹ ٹرافی میں زبردست کارکردگی نے کرکٹ کی دنیا میں ایک اور اچھے آل راؤنڈر کی آمد کا بگل بجایا۔ یہ آل راؤنڈر ہیں بائیں ہاتھ سے میڈیم فاسٹ بالنگ کرنے والے ظہیر خان۔ ریاست مہاراشٹر کے قصبے سرام پور میں سنہ 1978 میں پیدا ہونے والے ظہیر خان عرفان پٹھان کے شہر بڑودہ سے ہی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہیں۔ ظہیر خان کی شکل و صورت اور فاسٹ بالروں کے لیے ضروری ڈیل ڈول اور گٹھا ہوا جسم ان کی پاکستانی فاسٹ بالروں سے مشابہت کا سبب ہے اور مبصرین کرکٹ انہیں پاکستانی فاسٹ بالر وقار یونس کی طرح قرار دیتے ہیں۔ ظہیرخان اپنی تیز رفتار گیند کے دونوں جانب گھمانے کا فن خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ ظہیر خان پرانی گیند کو بھی اسی رفتار سے گھماتے ہیں جس طرح نئی گیند کو۔ بین الاقوامی کیرئر کے آغاز میں تو ظہیر خان کو ان کی ٹیم مینجمنٹ نئی بال کے ساتھ اٹیک کرنے نہیں بھیجتی تھی تاہم 2002 کے ویسٹ انڈیز کے دورے میں انہیں یہ کام سونپا گیا جسے انہوں نے بڑی دلیری اور بے باکی سے سر انجام دیا۔ اس دورے کے فوراً بعد انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف اور 2003 کے ورلڈ کپ میں ظہیر خان کی گیند پھینکنے کی مہارت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ اپنی اسی کارکردگی کی بناء پر انہوں نے خود کو بھارت کے لیڈنگ بالر کے طور پر منوایا۔ ظہیر خان نے چالیس ٹیسٹ میچوں میں 111 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ 103 ون ڈے میچ کھیل کر 152 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا سب سے زیادہ سکور 75 رنز ہے جو انہیں آل راؤنڈر کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔ پاک بھارت سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ باؤنسی وکٹیں تیار کرنے کا سوچ رہا ہے اگر ایسا ہوا تو پاکستانی بالروں کے ساتھ ظہیر خان بھی ان باؤنسی وکٹوں کا خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ظہیر خان پھر زخمی ہو گئے19 July, 2004 | کھیل ہربھجن، ظہیر ٹیم میں شامل07 July, 2004 | کھیل بھارت کو ’خفیہ‘ گرُ نہیں سکھائے: وسیم29 January, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||