بھارتی سپن اٹیک کا ستون، ہربھجن سنگھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی سر زمین سپن بالرز کے لیے کافی زرخیز ثابت ہوئی ہے اور کرکٹ کھیلنے والے اکثر ممالک بھارتی سپن اٹیک سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ دوسری ٹیموں کے بیٹسمینوں کو اپنی سپن بالنگ سے تنگ کرنے والے ایسے ہی ایک سپن بالر ہربھجن سنگھ ہیں جو بھارتی سپن اٹیک کا ایک مستقل حصہ ہیں۔ ہربھجن سنگھ نےبی بی سی سپورٹس کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ان کی ٹیم پاکستان کو پاکستان میں شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اس سیریز میں پاکستان کی ٹیم شدید دباؤ میں ہو گی۔ ہربھجن کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے نئے کوچ گریک چیپل سے بہت کچھ سیکھا ہے لہٰذا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کو ہرائیں گے۔ ہربھجن سنگھ ایسے دعوے کرنے کے لیے حق بجانب ہیں کیونکہ انہیں اپنی آف سپن بالنگ پر اعتماد ہےجس کی بدولت انہوں نے صرف پچاس ٹیسٹ میچوں میں 219 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ ان کی بہترین کارکردگی 84 رن دے کر آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا ہے جو انہوں نے چنئی میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف دکھائی۔ اپنے ٹیسٹ کیریئر میں ہربھجن سنگھ سترہ بار ایک اننگز میں پانچ یا پانچ سے زائد کھلاڑیوں کو پیولین واپس بھیج چکے ہیں۔ انہوں نے 117 ایک روزہ میچوں میں 138 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ پچیس سالہ ہربھجن سنگھ کا تعلق پنجاب کے شہر جالندھر سے ہے۔ پنجاب کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے ہربھجن سنگھ نے 1996 میں آسٹریلیا کے خلاف بنگلور ٹیسٹ میں اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا۔ ہربھجن کی کارکردگی ٹیسٹ کرکٹ میں ایک روزہ میچوں کی نسبت کافی بہتر ہے۔ سری لنکا کے خلاف حال ہی میں ختم ہونے والی سیریز کے چھ ایک روزہ میچوں میں وہ صرف تین وکٹیں حاصل کر سکے۔ جبکہ دوسری جانب حیدر آباد میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں ہربھجن سنگھ نے دس وکٹیں لیں اور مین آف دی میچ قرار پائے۔ ہربھجن سنگھ انگلی زخمی ہونے کے سبب پاکستان کے خلاف گزشتہ سیریز نہیں کھیلے تھےتاہم اس بار وہ اپنی سپن بالنگ کے جوہر دکھانے اور پاکستان کو شکست دینے کے لیے بے تاب ہیں۔ | اسی بارے میں ’ہربھجن سنگھ بیانات سے بچیں‘ 29 September, 2005 | کھیل گنگولی، دفاع کیلئے ہربھجن کی شاٹ25 September, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||