BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 January, 2006, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میراتھن: آمدن صدارتی فنڈ میں

لاہور میں منعقدہ بین الاقوامی میراتھن ریس
اس ریس میں بھی گزشتہ میراتھن کی طرح غیر ملکی ایتھلیٹ بھی شریک ہوں گے
انتیس جنوری کو لاہور میں دوسری بین الاقوامی میراتھن ریس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

یہ دوڑ سنہ 2005 میں ہونے والی پہلی میراتھن ریس ہی کی طرح منعقد کی جائے گی اور فرق صرف اتنا ہو گا کہ مرد اور خواتین الگ الگ دوڑیں گے یعنی یہ مخلوط دوڑ نہیں ہو گی اس کے علاوہ اس دوڑ میں شرکاء کی رجسٹریشن فیس کی مد میں جو رقم ملے گی وہ زلزلہ زدگان کے صدارتی ریلیف فنڈ میں دی جائے گی۔

اس ریس کا تھیم ہے ’رن لاہور رن، رن ٹو ریز فنڈ‘۔

اس ریس کے انعقاد کے لیے تشکیل کردہ چیف منسٹر ٹاسک فورس کے چیئرمین غوث اکبر نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امید ہے کہ اس دوڑ میں پچیس ہزار لوگ شریک ہوں گے۔

یہ دوڑ پانچ دس اور بیالیس کلو میڑ پر مشتمل ہو گی۔ ریس کے راستے میں پرانے اور نئے لاہور کی سڑکیں آئیں گی۔ اس دوڑ میں حصہ لینے کے لیے رجسٹریشن فیس پچاس روپے اور سو روپے رکھی گئی ہے۔

اس صورتحال سے جو تصویر سامنے آتی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ زلزلہ زدگان کے لیے پندرہ سے بیس لاکھ روپے ہی اکٹھے ہو سکیں گے تو کیا اتنے بڑے شو کے انعقاد سے حاصل ہونے والی یہ رقم کافی ہے؟

اس ضمن میں غوث اکبر کا کہنا تھا کہ ریس کے دوران جو معروف شخصیات دوڑیں گی ان کو بھی کئی کمپنیاں سپانسر کرتی ہیں اس سے بھی رقم اکٹھی ہو گی۔

زلزلہ زدگان کے لیے میراتھن ریس سے کتنی رقم اکٹھی ہو سکے گی اس بارے میں غوث اکبر نے کوئی اندازہ نہیں بتایا البتہ پریس کانفرنس کے بعد انہیں اس ریس کو سپانسر کرنے والے ادارے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے ریس کے انعقاد کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کا چیک دیا۔

اس ریس میں بھی گزشتہ میراتھن کی طرح غیر ملکی ایتھلیٹ بھی شریک ہوں گے اور گزشتہ دوڑ کی طرح اس میں بھی جیتنے والوں کے لیے انعامی رقم رکھی گئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ میراتھن کے بعد جیتنے والے پاکستانی مرد اور خواتین کو کئی ماہ گزرنے کے بعد جو رقم ملی وہ بھی آدھی تھی اور یہی وجہ ہے کہ لمبی دوڑ میں پاکستان کی نمبر ایک ایتھلیٹ شازیہ ہدایت نے اس میراتھن کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غوث اکبر نے کہا کہ اس بار ایسا نہیں ہو گا اور تمام جیتنے والوں کو جلد انعام دیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں موجود لاہور کے ناظم میاں عامر محمود نے کہا کہ یہ ریس ایک نیک مقصد کے لیے کروائی جا رہی ہے اس لیے اسے کامیاب کروانا چاہیے جبکہ ایس ایس پی لاہور عامر ذولفقار کا کہنا تھا کہ ریس کے شرکاء کی حفاظت کا مکمل انتظام کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد