ٹیم کے حوصلے بلند ہیں، عمران خان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ایک روزہ میچوں کی سیریز کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے حوصلے بلند ہے اور ٹیم اچھی کارکردگی دکھارہی ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایک روزہ میچوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ٹیسٹ میچوں میں عام طور پر قسمت کی یاوری نہیں چلتی اور ہمیشہ بہتر ٹیم ہی جیتتی ہے۔ اس ایک روزہ سیریز میں فلنٹوف یا انضمام کی ایک اچھی اننگ میچ کا پانسہ کسی بھی جانب پلٹ سکتی ہے۔ میرے خیال میں ایک روزہ مقابلے خاصے قریب قریب رہیں گے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ اپنے آپ میں اور اینڈریو فلنٹوف میں کوئی قدر مشترک پاتے ہیں تو عمران خان نے جواب دیا کہ فلنٹوف حقیقی معنوں میں ایک آل راونڈر کی حیثیت سے ابھرے ہیں۔ ایک اچھا آل راؤنڈر اپنی بالنگ یا بیٹنگ کے ذریعے ٹیم کومیچ جتا سکتا ہے۔ ایسے بہت ہی کم کھلاڑی ہیں جو اس معیار پر پورے اترے ہوں۔ میرے خیال میں اینڈریو فلنٹوف کے لیے یہ ایک بڑا خراج تحسین ہے۔ تین چار سال پہلےگزشتہ ورلڈ کپ کے دوران میں نےجب فلنٹوف کو کھیلتے دیکھا تو میں نے سوچا کہ وہ یقینا اس خلاء کو پر کرسکیں گے جو آئن بوتھم کے جانے کی بنا پر پیدا ہوگیا تھا۔ فلنٹوف میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی بالنگ یا بیٹنگ کے زریعے میچ کے نتیجہ پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ پاکستان تمام ایک روزہ میچ جیت لے کیونکہ ان سست وکٹوں پر ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے بالروں کے لیے پاکستان کے بیٹسمینوں کو دو مرتبہ آؤٹ کرنا خاصہ مشکل رہا لیکن جیسا کہ میں نے پہلےکہا ایک روزہ مقابلے خاصے غیر متوقع اور مختلف ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں وان آؤٹ، ٹریسکوتھک کپتان10 November, 2005 | کھیل ٹریسکوتھک ٹیم کے ساتھ رہیں گے18 November, 2005 | کھیل انضمام الحق کو کس کا انتظار ہے؟ 02 December, 2005 | کھیل ون ڈے میچوں کیلیے ٹیم کا اعلان03 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||