عبدالرشید شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور |  |
 | | | ایلیٹ پینل میں چوٹی کے امپائر شامل ہیں |
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل امپائرنگ کے معیار میں بہتری اور موجودہ امپائرز پر دباؤ کم کرنے کے لئے ایلیٹ پینل کے امپائرز کی تعداد میں اضافہ کرے گی۔ دوسری جانب پاکستان کے سابق کپتان وقار یونس نے پاکستان اور انگلینڈ کےدرمیان سیریز میں آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر کے بعض فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایلیٹ پینل میں کسی ایسے امپائر کو نہیں ہونا چاہئے جو قوانین سے واقف نہیں۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو میلکم اسپیڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت ایلیٹ پینل سات امپائرز پر مشتمل ہے ہوسکتا ہے کہ آئندہ سال یہ تعداد آٹھ نو یا دس کردی جائے۔ امپائرز پر موجود دباؤ کے ضمن میں میلکم اسپیڈ کا کہنا ہے کہ اگر ایک امپائر سال میں دس بارہ ٹیسٹ اور بیس ون ڈے انٹرنیشنل میں امپائرنگ کرتا ہے تو اسے کام کی زیادتی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ امپائرز پروفیشنل ہیں۔ پاکستان کے سابق کپتان وقاریونس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایلٹ پینل میں وہ امپائرز شامل کیے گئے ہیں جن کا ریکارڈ متاثر کن رہا ہے اور وہ بہترین امپائرز تصور کیے جاتے رہے ہیں۔ وہ کسی بھی امپائر سے اس کا کریڈٹ نہیں چھین رہے ہیں لیکن ’کسی بھی ایسے امپائر کو ایلٹ پینل میں شامل رہنے کا حق نہیں جسے کرکٹ کے قوانین معلوم نہیں ہیں۔‘ وقار یونس کا کہنا ہے کہ امپائرنگ بہت مشکل کام ہے۔ امپائرز پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے، ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں کیونکہ وہ بھی انسان ہیں لیکن کم ازکم اس سطح پر امپائرنگ کرنے والوں کو قوانین کا پتہ ہونا ضروری ہے۔ بوریوالہ ایکسپریس کے نام سے مشہور وقاریونس کے خیال میں اس سیریز میں ایسے واقعات سامنے آئے جن سے شکوک وشبہات نے جنم لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سلمان بٹ کو امپائر ڈیرل ہیئر کی وارننگ غیرضروری تھی جبکہ انضمام الحق کے رن آؤٹ کے لئے ان کا ٹی وی امپائر سے رجوع کرنا بھی بالکل غلط تھا۔ وقاریونس کو یقین ہے کہ آئی سی سی امپائرنگ کے ان متنازعہ فیصلوں کا جائزہ لے گی اور ایسے فیصلے کرے گی جن سے مستقبل میں معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہیں اور کوئی تنازعہ نہ اٹھ کھڑا ہو۔ |