9واں ٹیسٹ 9ویں اوپننگ جوڑی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوپننگ جوڑی ماضی میں پاکستانی کرکٹ کی شاندار روایت لیکن حالیہ برسوں میں بہت بڑا مسئلہ رہی ہے۔ ماجد خان اور صادق محمد کی جوڑی کے بعد مدثرنذر اور محسن خان اور پھر سعید انور اور عامرسہیل کامیاب اوپننگ پیئر کے طور پر سامنے آئے ہیں مگر اس کے بعد بار بار کھلاڑیوں کی تبدیلی نے کسی جوڑی کو طویل وقت کے لئے اکٹھے ہونے نہیں دیا۔ ملتان ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم نے شعیب ملک اور سلمان بٹ کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا ہے اسطرح یہ پاکستانی ٹیم کے آخری 9 ٹیسٹ میچوں میں9 ویں اوپننگ جوڑی ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف پرتھ کے پہلے ٹیسٹ میں عمران فرحت اور توفیق عمر نے دونوں اننگز میں اوپننگ کی تھی۔ میلبورن میں بھی یہی جوڑی میدان میں اتری۔ سڈنی ٹیسٹ میں سلمان بٹ کے ساتھ یاسرحمید کو اوپنر کے طور پر آزمایا گیا دونوں نے پہلی اننگز میں102 رنز اور دوسری اننگز میں46 رنز کا عمدہ آغاز ٹیم کو دیا۔ لیکن بھارت کے خلاف موہالی ٹیسٹ میں حیرت انگیز طور پر یاسرحمید کو ڈراپ کرکے توفیق عمر کو سلمان بٹ کا پارٹنر بنادیاگیا۔ اس میچ کی دونوں اننگز میں سلمان بٹ کی ناکامی کے بعد کولکتہ ٹیسٹ میں شاہد آفریدی کو اوپنر کے طور پر توفیق عمر کے ساتھ اننگز کے آغاز کے لئے بھیج دیا گیا۔ بنگلور میں یاسرحمید ایک بار پھر شاہد آفریدی کے ساتھی بنے اور دونوں نے دوسری اننگز میں91 رنز کا اسٹارٹ ٹیم کو دیا لیکن جب ٹیم ویسٹ انڈیز گئی تو پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سلمان بٹ اور یاسربٹ اوپنرز بنے اور دوسری اننگز میں سلمان بٹ کے ساتھ شاہد آفریدی نے اوپننگ کی۔ کنگسٹن کے دوسرے ٹیسٹ میں کپتان انضمام الحق نے شعیب ملک کو اوپنر کے طور پر آزمانے کا فیصلہ کیا انہوں نے دونوں اننگز میں یاسرحمید کے ساتھ اننگز کی ابتدا کی۔ پچھلے آٹھ ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم صرف ایک اوپننگ سنچری اورسات نصف سنچری پارٹنرشپس قائم کرسکی ہے واحد سنچری شراکت اور تین نصف سنچری شراکتوں میں یاسرحمید شریک رہے ہیں لیکن سلیکٹرز نے انہی پر عدم اعتماد ظاہر کیا ہے اور وہ سولہ کھلاڑیوں میں بھی نہیں ہیں۔ سلمان بٹ نے ملتان ٹیسٹ سے قبل10 اننگز میں اوپننگ کی ہے جن میں صرف ایک سنچری اورایک ہی نصف سنچری شامل ہیں۔ دو مرتبہ وہ صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں اور چار مرتبہ وہ ڈبل فگرز میں آئے بغیر آؤٹ ہوئے ہیں۔ اوپنر جوڑی کی بار بار کی تبدیلی کے بارے میں کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر کا یہ کہنا ہے کہ قابل اعتماد اوپننگ پیئر کی تلاش میں مختلف کامبی نیشن آزمائے گئے جبکہ بیشتر مبصرین کا یہ خیال ہے کہ اییسا کرکے کسی بھی اوپنر کو اعتماد نہیں دیا گیا بلکہ اس کے سر پر ہمیشہ تلوار ہی لٹکتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں آسٹریلیا کی تازہ ترین مثال دی جاتی ہے کہ ایشیز میں میتھیو ہیڈن کے مسلسل ناکام ہونے کے بعد سلیکٹرز نے انہیں ڈراپ نہیں کیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہیڈن نے اوول ٹیسٹ میں سنچری بناکر اپنا اعتماد بحال کرلیا۔ پاکستان میں اس کے برعکس ہر دوسری اننگز اور ٹیسٹ میں اوپننگ جوڑی کی تبدیلی غیرمستقل مزاجی کو ظاہر کرتی ہے۔ | اسی بارے میں شعیب ملک ہنرمند کرکٹر10 November, 2005 | کھیل سلمان بٹ ، بیٹنگ کی دھوپ چھاؤں10 November, 2005 | کھیل ملتان ٹیسٹ میں پاکستان فیورٹ11 November, 2005 | کھیل ہوم سیریز نہ جیتنے کا جمودختم ہوگا؟11 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||