مشتاق انگریزوں کوگھما سکتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی لیگ اسپنر مشتاق احمد کے آئندہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے پاکستان کے دوران پاکستان ٹیم میں شمولیت کے قوی امکانات ہیں اور خیال کیا جارہا ہے کہ وہ اس دورۂ کے دوران اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ سسیکس کاونٹی کی طرف سے کھیلنےوالے مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ وہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں اور ان کے انداز سے اچھی طرح واقف ہیں۔ پینتیس سالہ مشتاق احمد نے کہا کہ اگرانہیں ٹیم میں شامل کیا گیا تو وہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ مشتاق احمد پاکستان کی طرف سے باون ٹسیٹ کھیل چکے ہیں اور آخری مرتبہ انہوں نے دو ہزار تین میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ تاہم اس سال انہوں نے سسیکس کاونٹی کی طرف سے اسی وکٹ حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی اپنی بولنگ سے محظوظ ہو رہے ہیں اور اگر ملک کو ان کی ضرورت پڑی تو وہ اپنی پوری محنت سے بولنگ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں نہیں کھیلایا گیا تب بھی وہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے تجربے اور ان کے بارے میں مشاہدے سے پاکستانی بالروں کو آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا کہ خلاف ایشز سیریز جیتنے کے بعد بہت پر اعتماد ہے اور اُن کی ٹیم میں اینڈریو فلنٹاف اور کیوین پیٹرسن جیسے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے کہ ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف ان کی خاص حکمت عملی ہو گی اور وہ دونوں کو بڑا سکور کرنے سے روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرسن جیسا جارح بلے باز انہوں نے نہیں دیکھا جو تیز اور سپن بلنگ دونوں کے خلاف بڑی تیزی سے سکور کرنے کی مہارت رکھتا ہے۔ تاہم پیٹرسن سپن بولنگ پر نسبتًا زیادہ آسانی سے آؤٹ ہو جاتا ہے۔ پاکستان اس سال نومبر دسمبر میں انگلینڈ کی تین ٹسیٹ میچوں اور پانچ ایک روزہ میچوں کی میزبانی کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||