BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 July, 2005, 03:39 GMT 08:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
2012 اولمپکس لندن کو مل گئے
News image
اولمپک کی میزبانی حاصل کرنے کی دوڑ گزشہ اٹھارہ ماہ سے جاری ہے
دو ہزار بارہ کے اولمپکس گیمز کی میزبانی کی دوڑ لندن نے جیت لی ہے۔

اس بات کا فیصلہ سنگاپور میں بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی فیصلہ کن ووٹنگ میں کیا گیا۔

لندن کی کامیابی کا اعلان برطانوی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بج کر چھیالس منٹ پر کیا گیا۔

ماسکو، نیو یارک اور میڈرڈ کو ووٹنگ کے بتدائی راؤنڈز میں بین لاقوامی اولمپک کونسل کے ممبران نے خارج کر دیا تھا۔

میزبان شہر کا تعین کرنے کے فیصلہ اولمپک کمیٹی کے ایک سو سولہ ارکان کے ہاتھ میں تھا۔

عام خیال یہی تھا کہ ان کھیلوں کی میزبانی کا فیصلہ پیرس کے حق میں ہوگا۔ اولمپک کمیٹی کے سامنے پیرس کا کیس پیش کرنے کے لئے سنگاپور میں فرانسیسی صدر ژاک شیراک خود موجود ہیں۔

لندن کے کیس کی وکالت کے لئے وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے اولمپک کمیٹی کے ارکان سے سنگاپور جا کر اپیل کی جبکہ لندن کے میئر کین لونگسٹن اور برطانیہ کی فٹبال ٹیم کے سٹار کپتان ڈیوڈ بیکھم بھی لندن کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔

نیویارک کی وکالت کے لئے سابق ورلڈ چیمپیئن باکسر محمد علی اورامریکہ کی سابق خاتونِ اول اور موجودہ سینیٹر ہلری کلنٹن موجود تھے۔

ماسکو کی نمائندگی تیراکی کے روسی اولمپک چیمپئن ایلگزینڈر پاپوف نے کی تاہم چیچنیا کے ایک چھاپہ مار رہنما شامل بوزئیف نے خبردار کیا تھا کہ اگر ماسکو کو اولمپک کھیل کرانے کے لئے چنا گیا تو چھاپہ مار حملوں کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا۔

اولپمک گیمز کی میزبانی حاصل کرنے کی دوڑ گزشتہ اٹھارہ ماہ سے جاری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد