2012 اولمپکس لندن کو مل گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہزار بارہ کے اولمپکس گیمز کی میزبانی کی دوڑ لندن نے جیت لی ہے۔ اس بات کا فیصلہ سنگاپور میں بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی فیصلہ کن ووٹنگ میں کیا گیا۔ لندن کی کامیابی کا اعلان برطانوی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بج کر چھیالس منٹ پر کیا گیا۔ ماسکو، نیو یارک اور میڈرڈ کو ووٹنگ کے بتدائی راؤنڈز میں بین لاقوامی اولمپک کونسل کے ممبران نے خارج کر دیا تھا۔ میزبان شہر کا تعین کرنے کے فیصلہ اولمپک کمیٹی کے ایک سو سولہ ارکان کے ہاتھ میں تھا۔ عام خیال یہی تھا کہ ان کھیلوں کی میزبانی کا فیصلہ پیرس کے حق میں ہوگا۔ اولمپک کمیٹی کے سامنے پیرس کا کیس پیش کرنے کے لئے سنگاپور میں فرانسیسی صدر ژاک شیراک خود موجود ہیں۔ لندن کے کیس کی وکالت کے لئے وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے اولمپک کمیٹی کے ارکان سے سنگاپور جا کر اپیل کی جبکہ لندن کے میئر کین لونگسٹن اور برطانیہ کی فٹبال ٹیم کے سٹار کپتان ڈیوڈ بیکھم بھی لندن کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔ نیویارک کی وکالت کے لئے سابق ورلڈ چیمپیئن باکسر محمد علی اورامریکہ کی سابق خاتونِ اول اور موجودہ سینیٹر ہلری کلنٹن موجود تھے۔ ماسکو کی نمائندگی تیراکی کے روسی اولمپک چیمپئن ایلگزینڈر پاپوف نے کی تاہم چیچنیا کے ایک چھاپہ مار رہنما شامل بوزئیف نے خبردار کیا تھا کہ اگر ماسکو کو اولمپک کھیل کرانے کے لئے چنا گیا تو چھاپہ مار حملوں کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا۔ اولپمک گیمز کی میزبانی حاصل کرنے کی دوڑ گزشتہ اٹھارہ ماہ سے جاری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||