بازیدخان خاندانی روایت کا ضمامن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر بازید خان بارباڈوس میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں منتخب ہو گئے تو ان کا خاندان تین نسلوں سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا اعزاز حاصل کر لے گا۔ بازید خان کے والد ماجد خان نے تریسٹھ ٹیسٹ اور تئیس ون ڈے میچوں میں ملک کی نمائندگی کی۔ انہوں نے تین ٹیسٹوں میں کپتانی بھی کی۔ بازید خان کے دادا ڈاکٹر جہانگیر خان نے متحدہ ہندوستان کی طرف سے چار ٹیسٹ کھیلے۔ ڈاکٹر جہانگیر خان لارڈز کے کرکٹ گروانڈ پر اپنی گیند سے چڑیا کو ہلاک کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ڈاکٹر جہانگیر خان نے متحدہ ہندوستان کی طرف سے 1932 میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ بازید خان کے بارباڈوس میچ میں کھیلنے کے قوی امکانات ہیں کیونکہ پاکستان ٹیم کے کپتان انضمام الحق ایک ٹیسٹ کی پابندی کی وجہ سے اس میچ میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ کرکٹ کی تاریخ میں تیس ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں باپ اور بیٹے نے ملک ٹیسٹ کرکٹ کھیلی لیکن ایسی مثال صرف ایک ہے جس میں تین نسلوں نے ملک کی نمائندگی کی۔ بارباڈوس کے رہنے والے ہیڈلی فیملی نے تین نسلوں تک ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کی۔ بازید خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ پہلے ان کا خیال تھا کہ وہ اگر ٹیسٹ کھیلنے میں کامیاب ہوئے تو ان کا خاندان پہلا ہو گا جس نے تین نسلوں تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلی لیکن اب ان کو پتہ چلا ہے کہ بارباڈوس کا ہیڈلی خاندان پہلے یہ اعزاز حاصل کر چکا ہے۔ بازید خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے دادا کو کھیلتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے اپنے والد ماجد خان کو کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھا ہے ۔ بازید خان کا کہنا ہے کہ اپنے والد کے کھیل کے معیار کو پہچنا کافی مشکل کام ہے لیکن ان کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ اچھے کھیل کا مظاہرہ کر پائیں۔ بازید خان کے ماموں جاوید برکی نے بھی پاکستان کی طرف سے کھیلا ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان بھی ان کے رشتہ میں چچا ہیں۔ بازید خان کا کہنا ہے کہ ان کے ماموں جاوید برکی نے ہمیشہ ان کی رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ان کو باؤنسر سے بچنے کے گر بتائے۔ ماجد خان نے بازید خان کے بارے میں کہا کہ ان کو ہمیشہ سے یقین تھا کہ بازید میں ملکی سطح پر کھیلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ بازید خان 2004 میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ملتان میں کھیلے جانے والے سہ فریقی ون ڈے سیریز کے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||