بازیدخان والد کے نقش قدم پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فن کسی کی میراث نہیں ہوتا لیکن یہ ضرور ہے کہ چراغ سے چراغ روشن ہوتا ہے، زندگی کے کئی دوسرے شعبوں کی طرح کرکٹ میں بھی فن ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا رہا ہے۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ملتان میں کھیلے جانے والے سہ فریقی ون ڈے سیریز کے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں اگرچہ دو کھلاڑیوں راؤ افتخار اور بازیدخان نے اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا لیکن ان میں بازید خان اس لیے سب کی توجہ کا مرکز بن گئے کہ ان کے والد ماجد خان بھی پاکستان کی طرف سے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ اگرچہ بازیدخان اولین میچ کو بڑی اننگز سے یادگار نہ بناسکے لیکن ان کا نام ریکارڈ بک میں اس طرح درج ہوگیا کہ پاکستان کی طرف سے باپ بیٹے کا ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا یہ پہلا موقع ہے۔ ٹیسٹ کے مقابلے میں ون ڈے انٹرنیشنل میں باپ بیٹوں کے کھیلنے کی مثالیں کم ہیں۔ نیوزی لینڈ میں لانس کینز اور کرس کینز کا نام ریکارڈ بک میں درج ہے۔ ڈونلڈ پرنگل نے 1975ء کے ورلڈ کپ میں مشرقی افریقہ کی نمائندگی کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||