عبدالرشید شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی |  |
 |  شعیب اختر کا دعویٰ ہے کہ وہ پوری طرح فِٹ ہیں۔ |
فاسٹ بولر شعیب اختر ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم میں شامل نہ کیے جانے پر سخت دلبرداشتہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فٹ ہونے کے باوجود ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ کسی میڈیکل کمیشن نے ان کا فٹنس ٹیسٹ نہیں لیا اور انہیں ان فٹ قرار دے دیا گیا جو سراسر نا انصافی ہے۔ شعیب اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے ٹیم میں منتخب نہ کیے جانے کا بہت دکھ ہے۔ انہوں نے اس دورے کے لیے خود کومکمل فٹ کرلیا تھا، کافی بولنگ بھی کی تھی اور جمنیزیم میں ٹریننگ بھی کی تھی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیکل کمیشن نے ان کا فٹنس ٹیسٹ ہی نہیں لیا اور کہہ دیا گیا کہ وہ فٹ نہیں ہیں۔ شعیب اختر کا کہنا ہے کہ یہ محض پروپیگنڈہ ہے کہ انہوں نے اپنا وزن بڑھا لیا ہے۔انہوں نے اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف سے میچز کھیلے ہیں اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ میں بھی بولنگ کی ہے اور وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس سوال پر کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ٹیم میں واپسی کے لیے آپ کو فٹنس کے ساتھ ساتھ اپنا رویہ بھی بہتر بنانا ہوگا، شعیب اختر نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سات آٹھ سال سے کسی کو بھی رویے کی شکایت نہیں ہوئی اب اچانک رویے کی شکایت کیسے پیدا ہوگئی؟ شعیب اختر نے کہا کہ ان کا رویہ اگر منفی ہوتا تو وہ آخری پندرہ ٹیسٹ میچوں میں اسی وکٹیں کیسے حاصل کرسکتے تھے؟ انہوں نے ہمیشہ سو فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے لیکن درحقیقت یہ سب کچھ انہیں ٹیم سے ڈراپ کرنے کا بہانہ ہے۔ شعیب اختر کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال سے دلبرداشتہ ہونے کے باوجود وہ ٹیم میں واپس آنے کے لیے پرعزم ہیں۔ |