BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 November, 2004, 00:01 GMT 05:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہمارے کھلاڑی تیار ہیں:انضمام

یاسر اور شعیب
پاکستانی ٹیم اٹھائیس نومبر کو آسٹریلیا روانہ ہوگی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے آسٹریلیا کے دورے کو مشکل قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نئے کھلاڑی اس دورے سے خوفزدہ نہیں بلکہ تمام کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھانے کے سلسلے میں پرعزم ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا میں تین ٹیسٹ اور پھر سہ فریقی ون ڈے ٹورنامنٹ کھیلے گی جس میں پاکستان کا مقابلہ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز سے ہوگا۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ یقیناً یہ دورہ آسان نہیں ہے۔ وہاں کنڈیشن پاکستان سے بالکل مختلف ہوگی اور پھر پاکستان کا مقابلہ جس ٹیم سے ہے وہ اسوقت دنیا کی بہترین ٹیم بھی ہے ۔

لیکن ان کا کہنا تھا ’ہمارے کھلاڑی مقابلے کے لئے تیار ہیں ‘انہیں اپنے کھلاڑیوں سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔

انضمام الحق کے مطابق دورے کے لئے متوازن ٹیم منتخب کی گئی ہے فاسٹ بولنگ کے شعبے کے بارے میں انضمام الحق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ میچوں میں پاکستانی پیس اٹیک بہت اچھی بولنگ نہیں کرسکا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ آسٹریلیا میں وہ مایوس نہیں کرے گا۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان کا کہنا ہے کہ محمد آصف کو ڈومیسٹک کرکٹ کی عمدہ کارکردگی کی بنا پر ٹیم میں جگہ ملی ہے ۔انہیں یقین ہے کہ محمد سمیع اپنی ناکامی پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

اوپنر توفیق عمر کو ٹیم میں شامل نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئےانضمام نے کہا کہ بھارت کے خلاف سیریز میں توفیق عمر مکمل طور پر ناکام رہے جبکہ حالیہ کچھ میچوں میں ناکامی کے باوجود یاسرحمید کی مجموعی کارکردگی اچھی رہی ہے لہذا انہیں توفیق عمر پر ترجیح دی گئی ہے۔

عامر بشیر کو کولکتہ کے اسکواڈ میں شامل کرنے کے بعد اب ڈراپ کرنے کے بارے میں وسیم باری کا کہنا ہے کہ اسے عاصم کمال پر فوقیت نہیں دی جاسکتی تھی۔

شاہد آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم میں رکھنے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ ون ڈے اسکواڈ میں شامل ہونگے لہذا انہیں ٹیم کے ساتھ رکھا گیا ہے اس کے علاوہ انکی موجودگی سے کپتان کے پاس اسپن کے شعبے میں چوائس بھی رہے گی۔

وسیم باری کا کہنا ہے کہ محمد سمیع کو وہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اسپیڈ کے بجائے گیند کو درست لینتھ لائن پر رکھے وکٹ خود بخِود ملے گی۔

پاکستانی ٹیم اٹھائیس نومبر کو آسٹریلیا روانہ ہوگی پاکستان اور آُسٹریلیا کےدرمیان پہلا ٹیسٹ پرتھ میں سولہ سے بیس دسمبر تک کھیلا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد