BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حتمی ٹیم سلیکٹرز منتخب کریں‘

پاکستان کرکٹ
پاکستان کی ٹیم تیرہ نومبر کو بھارت جا رہی ہے
سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے بعد اب پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اگلی منزل کولکتہ ہے جہاں وہ تیرہ نومبر کو بھارتی کرکٹ بورڈ کی75 ویں سالگرہ کے سلسلے میں ہونے والے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں روایتی حریف بھارت سے مدمقابل ہوگی۔

لیکن پاکستانی ٹیم کا سب سے سخت امتحان آئندہ ماہ آسٹریلیا کا دورہ ہے جس میں اسے آسٹریلیا کے خلاف تین ٹیسٹ اور پھر آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے مقابل سہ فریقی ون ڈے سیریز میں حصہ لینا ہے۔

دورۂ آسٹریلیا کے لیے پاکستان کی سولہ رکنی کرکٹ ٹیم کا انتخاب عید کے بعد کھلاڑیوں کی فٹنس رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کا انتخاب کرنے والی پانچ رکنی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین وسیم باری ان خیالات کے ساتھ سامنے آئے ہیں کہ نہ صرف پندرہ یا سولہ رکنی اسکواڈ بلکہ کسی میچ میں حصہ لینے والی حتمی گیارہ رکنی ٹیم کا انتخاب بھی سلیکشن کمیٹی کرے۔

وسیم باری کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو تجویز پیش کرنے والے ہیں کہ کپتان اور کوچ کے مشورے سے حتمی ٹیم بھی سلیکٹرز منتخب کریں۔ وہ اس سلسلے میں آسٹریلیا کی مثال پیش کرتے ہیں جہاں نہ صرف ہوم میچز بلکہ غیرملکی دوروں پر بھی سلیکٹرز حتمی گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

وسیم باری کی اس تجویز کی وجہ یہ ہے کہ حالیہ ون ڈے سیریز میں زمبابوے کے خلاف پشاور کے میچ سے قبل کپتان اور کوچ کے کہنے پر سلیکٹرز نے بیمار معین خان کی جگہ وکٹ کیپر کامران اکمل کو ٹیم میں شامل کیا تھا لیکن ان کی جگہ پر یونس خان سے وکٹ کیپنگ کرائی گئی۔ اسی طرح سلیکشن کمیٹی کے منتخب کردہ وکٹ کیپر ذوالقرنین کو مسترد کرکے کپتان انضمام الحق نے کامران اکمل کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ سلیکشن کمیٹی کا کردار محض دکھاوے کا ہے۔

وسیم باری یہ کہتے ہیں کہ کامران اکمل کی بجائے یونس خان سے وکٹ کیپنگ کرائے جانے پر کوچ باب وولمر معذرت کرچکے ہیں لہذا یہ معاملہ اب ختم سمجھیں۔

وسیم باری ٹیسٹ میں کسی مستند بیٹسمین کو ون ڈاؤن کی پوزیشن پر کھلانے کے حق میں رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کراچی ٹیسٹ میں یونس خان کو ون ڈاؤن کھلانے کا فیصلہ کوچ نے انہی کے کہنے پر کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سینئر کھلاڑیوں کو ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

وسیم باری نے کپتان انضمام الحق کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا کہ یاسرحمید کو آرام دینے کی غرض سے بھارت جانے والی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ چیف سلیکٹر نے کہا کہ’ آرام کس بات کا وہ فارم میں نہیں ہے لہذا اسے ٹیم سے ڈراپ کیا گیا ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد