BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2004, 01:18 GMT 06:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان

عامر سہیل کی جگہ دوبارہ وسیم باری کو مقرر کیا گیا ہے
عامر سہیل کی جگہ دوبارہ وسیم باری کو مقرر کیا گیا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے عامر سہیل کی سربراہی میں قائم قومی سلیکشن کمیٹی کو تبدیل کر کے نئی قومی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے جس کاسربراہ سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر وسیم باری کو مقرر کیا گیا ہے۔

سلیکشن کمیٹی کے دیگر اراکین میں اقبال قاسم، سلطان رانا اور احتشام الدین شامل ہیں۔ اقبال قاسم جو کہ چند روز قبل بنائی جانے والی جونئر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ ہیں سینیئر اور جونیئر کمیٹیوں کے درمیان رابطے کا کام بھی کریں گے۔

وسیم باری پہلے بھی پاکستان کی قومی سیلیکشن کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ سن دو ہزار سو تین میں ہونے والے عالمی کپ کرکٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کا انتخاب بھی وسیم باری کی سلیکشن کمیٹی ہی نے کیا تھا۔ اس ٹیم نے عالمی کپ میں انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکی تھی۔

اس بدترین کارکردگي کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل رٹایئرڈ توقیر ضیاء نے وسیم باری کی سلیکشن کمیٹی کو ہٹا کر سابق ٹیسٹ بیٹس مین عامر سہیل کو نئی سلیکشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا۔

عامر سہیل نے آتے ہی متعدد سینیر کھلاڑیوں کی چھٹی کر کے ٹیم کی ازسر نو تشکیل کا بیڑا اٹھایا۔ تاہم ٹیم کی تعمیر نو کے ضمن میں ان کے اکثر فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

ٹیم میں پے در پے تبدیلیوں اور پی سی بی کے چیئرمین کے صاحبزادے جنید ضیاء کے انتخاب نے ان کی حیثیت کو کافی حد تک متنازع بنا دیا۔

پی سی بی کے گذشتہ چیئرمین توقیر ضیاء ہی کے دور میں ٹیم کے انتخاب میں کوچ اور کپتان کا مشورہ نہ لینے پر عامر سہیل اور کوچ جاوید میانداد کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ یہ قضیہ کسی ایک کی چھٹی پر منتج ہو گا۔

تاہم گذشتہ چیئرمین توقیر ضیاء نے فریقین کو ڈانٹ ڈپٹ کر چپ تو کرا دیا تاہم اس کے بعد جلد ہی توقیر ضیاء کو خود نیوزی لینڈ کے ساتھ ون ڈے سیریز کے ٹی وی رائٹس ایک پرائیویٹ چینل کو دینے کے سبب پیدا ہونے والی صورت حال کی بناء پر مستعفی ہونا پڑا تھا۔

نئے چیئرمین شہر یار خان نے آتے ہی اپنے پہلی پریس کانفرنس میں کچھ چہروں کی تبدیلی کا عندیہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایشیا کپ کے لیے سترہ سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی ٹیم کے انتخاب پر بھی عامر سہیل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کو معطل کر دیا تھا اور بعد ازاں اس ٹیم کے انتخاب کے لیے ایک آزاد کمیٹی بنائی۔

پی سی بی کے چیئر مین شہر یار خان کے اس فیصلے کے بعد اخبارات میں یہ

چہ مگوئیاں ہوتی رہیں کہ شاید عامر سہیل اس عدم اعتماد پر خود استعفی دے دیں تاہم عامر سہیل نے ان خبروں سے قطاّ انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان کا ضمیر صاف ہے اور انہوں نے ٹیم کے انتخاب میں ایمانداری برتی ہے لہذا وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔

ادھر اخبارات میں روزانہ ایسی خبریں شائع ہوتی رہیں کہ جلد ہی عامر سہیل شہر یار خان سے مل کر انہیں اپنا استعفی پیش کریں گے اور بدھ اکیس جنوری کو بھی دونوں کی ملاقات متوقع تھی مگر عامر سہیل کی ناسازی طبع کی بناء پر ملاقات سے معذوری کی بنا پر یہ ملاقات نہ ہو سکی۔اور بالآخر بائیس جنوری کو شہر یار خان نے نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کر دیا تاہم شہر یار خان نے سلیکشن کے عمل میں عامر سہیل کی خدمات کو سراہا کہ جس کے سبب عالمی کپ کرکٹ کے بعدپاکستانی کرکٹ ٹیم میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے اور کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کی ترقی کے لیے مستقبل میں عامر سہیل کی خدمات حاصل کی جائیں۔

یہ خدمات کس صورت میں ہوں گی اس ضمن میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اس وقت تو شہر یار خان نے عامر سہیل کو گھر بھیج دیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد