2010 کا فٹبال کپ جنوبی افریقہ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فٹ بال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک افریقی ملک کو دو ہزار دس میں عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی کا حق مل گیا ہے۔ لہذا آج سے چھ سال بعد عالمی فٹبال مقابلے جنوبی افریقہ میں ہوں گے۔ فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے چوبیس ارکان نے خفیہ رائے شماری سے یہ فیصلہ ہفتے کے روز سوئٹزلینڈ کے شہر زیورچ میں کیا۔ جنوبی افریقہ کو اس فیصلے کے لئے فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا۔ جنوبی افریقہ کے مقابلے میں جو ملک تھے ان میں مراکش، مصر اور لیبیا شامل ہیں جبکہ تنیسیا نے اپنی بولی واپس لے لی تھی۔ البتہ لیبیا سنیچر کو ہونے والی ووٹنگ سے پہلے ہی مقابلے سے باہر ہو گیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اب ایک پُروقار اور منافع بخش ٹورنامنٹ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے چند دن قبل ہی فٹبال کی میزبانی کے امیدوار ممالک نے لابنگ شروع کر دی تھی۔ فیفا کے صدر سیب بلیٹر نے کہا کہ فٹ بال کی میزبانی افریقہ کو دینا پورے برِاعظم کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا جیت کا فیصلہ کرنے کے لئے صرف ایک راؤنڈ کی ضروت پڑی۔ جنوبی افریقہ کا وفد میں جس میں سابق صدر نیلسن مینڈیلا بھی شامل تھے اس فیصلے سے اور بھی زیادہ خوشی اس لئے دوڑ گئی کہ دو ہزار چھ کے عالمی فٹبال کپ کی میزبانی کی لئے جرمنی کو منتخب کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||