کرکٹ کے دیوانے فٹبال پر مائل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارہ سالہ راگیو اب ان ہزاروں بلکہ لاکھوں لڑکوں میں سے ایک ہے جس نے دہلی کے مضافات میں قائم ایک فٹبال اکیڈمی میں اس لئے داخلہ لیا کہ وہ فٹبال میں مہارت حاصل کر سکے۔ فٹبال کا کھیل اب بھارت میں رفتہ رفتہ مقبولیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ راگیو کہتے ہیں: ’کرکٹ مجھے پسند ہے، مگر فٹبال زیادہ اچھا کھیل ہے۔ میں ایک پیشہ ور فٹبالر بن کر مانچسٹر یونائیٹڈ کے لئے کھیلنا چاہتا ہوں۔‘ بھارت کی گلی گلی میں کم سن لڑکوں سے لے نوجوانوں کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اب تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ کئی جگہ بچوں کو فٹبال کھیلنے کی تربیت دینے کے لئے اکیڈمیاں وجود میں آگئی ہیں۔ انہی تربیت گاہوں میں فٹبال سیکھانے والے برطانوی کوچ بِل ایڈمس کہتے ہیں: ’تبدیلی صاف نظر آ رہی ہے۔ سکولوں میں بھی اب بچے فٹبال کی طرف مائل ہونے لگے ہیں۔‘ بھارت میں اس وقت فٹبل دو ریاستوں تک محدود ہے۔ ان میں سے ایک مغربی بنگال اور دوسری گوا ہے۔ بھارت نے دو ہزار چھ میں ہونے والی عالمی کپ کے لئے اپنی کوششوں کا آغاز گوا کے نہرو سٹیڈیم میں سنگاپور کے خلاف میچ سے کیا۔ فٹبال کھیلنے والے ملکوں میں بھارت ایک سو اڑتیسویں نمبر پر ہے۔ جبکہ سنگاپور ایک سو ساتویں نمبر پر ہے۔ یہ میچ بھارت نے جیتا۔ بھارت کے کوچ سٹیفن کونسٹینٹائن کہتے: ’اس اعتبار سے بھارت کو فٹبال کے میدان میں ایک طویل سفر درپیش ہے۔ لیکن بہرحال ہر سفر پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے۔‘ بھارتی کپتان بائچنگ بھوٹیا کا کہنا ہے کہ کامیابی کا انحصار عوامی سطح پر اس کھیل کی مقبولیت اور حمایت پر ہے۔ عالمی کپ کے اگلے گروپ میچ میں بھارت کا مقابلہ اومان سے ہے۔ یہ میچ مارچ کے آخر میں کیرالہ میں ہوگا۔ بائچنگ پہلے بھارتی کھلاڑی ہیں جنہوں نے کسی یورپین فٹبال کلب میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے انگلش تھرڈ ڈویژن کے برّی فٹبال کلب میں تین سال گزارے ہیں۔ ادھر انگلش پریمیئر شپ کے لیسٹر سٹی نے بھوٹیا کی ٹیم ایسٹ بنگال کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ وہ نئے کھلاڑیوں کو تلاش کر سکے۔ بل ایڈمس کہتے ہیں کہ بے شک یہاں صلاحیت موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دو ہزار چھ میں تو بھارت شاید کوئی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے، لیکن دو ہزار دس اور دو ہزار چودہ میں بھارت کے امکانات روشن ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||