BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 April, 2004, 06:32 GMT 11:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بورے والا ایکسپریس‘ کا دیس اداس

وقار یونس
وقار یونس
وقار یونس16 نومبر 1971 کو بورے والا کی میتلا فیملی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ بلقیس نے کہا کہ ایک ماں کے لئے اس سے زیادہ خوشی کیا ہوگی کہ ان کے بیٹے نے کرکٹ کے میدانوں میں اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے کیونکہ وہ جتنا اچھا کھلاڑی ہے اس سے کہیں زیادہ اچھا انسان اور بیٹا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وقار نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ تمام گھر والوں کے مشورہ سے کیا ہے اور وہ جتنا بھی کھیلا ہے نہایت ہی عمدہ کھیلاہے اور نہایت ٹھیک وقت پر اس نے عزت کے ساتھ کرکٹ کو خیرآباد کہا ہے۔

وقار یونس کی اہلیہ ڈاکٹر فریال کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر ایک آئیڈیل انسان ہیں جو ہمیشہ اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں اور ان کی خدمات ملک کے لئے نہایت ہی قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے صرف کرکٹ ہی نہیں کھیلی بلکہ اپنا اور ملک و قوم کا نام بھی روشن کیا ہے۔ باعزت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ان کے لئے انتہائی مشکل تھا لیکن بلاشبہ وہ ان کے اس فیصلہ کو سپورٹ کرتی ہیں۔

وقار یونس نےاپنی کرکٹ کا آغاز بورے والا سے کیا اور کرکٹ میں ایکسپریس کی اصطلاح بھی بورے والا ایکسپریس سے شروع ہوئی اسی کی بدولت ان کے آبائی شہر کا نام شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گیا۔

بورے والا کے لوگ اسی لئے ان پر ناز کرتے ہیں انہیں اس مقام تک پہنچانے میں انکے کلب کے کوچ صوفی محمد صدیق کا بڑا ہاتھ ہے۔ وقار یونس نے اپنی کرکٹ کا آغاز صوفی محمد صدیق کے کلب کی سے کیا تھا۔

صوفی محمد صدیق کا کہنا ہے کہ وہ وقار یونس کی ریٹائرمنٹ پر افسردہ ہیں کیونکہ وہ دو تین سال مزید انٹر نیشنل کرکٹ کھیل سکتے تھے لیکن کرکٹ کے ارباب اختیار نے ان کے شاندار کیریئر کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دیا۔

صوفی محمد صدیق کا کہنا تھا کہ وقار یونس کو اپنی صاف گوئی کی وجہ سے اپنے کیرئیر کے دوران کئی نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وقار کو اپنے آبائی علاقے میں فاسٹ باؤلرز کی تربیت کے لئے کوئی پروگرام بنانا چاہئے کیونکہ اس علاقہ میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے اور مستقبل میں پاکستان کو یہاں سے بہت سے تیز باؤلرز مل سکتے ہیں۔

وقار یونس کا ایک انداز
وقار یونس کا ایک انداز

ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وقار یونس انتہائی محنتی اور بہادر انسان ہیں۔ ایک دفعہ نہر پر نہاتے ہوئے ان کی بائیں ہاتھ کی انگلی جنگلے میں پھنس کر کٹ گئی جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ کا آپریشن کروانا پڑا لیکن اس واقعہ کے 12 روز بعد ہی انہوں نے ساہیوال کے خلاف منٹ۔منٹگمری گراؤنڈ میں میچ کھیلتے ہوئے 5 کھلاڑی آؤٹ کر دیئے ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وقار اپنی کلب کی طرف سے بورے والا میں ایک ٹورنامنٹ کھیل رہے تھے کہ اس نے ایک اتنی تیز گیند کی کہ وہ بیٹسمین اور وکٹ کیپر کے پاس سے گزرتی ہوئی گراؤنڈ کی باؤنڈری پر گھاس چرتی ہوئی بکری کو جا کر لگی جس کے نتیجہ میں وہ بکری موقع پر ہی ہلاک ہو گئی اور یہ واقعہ شہر بھر میں ان کی شہرت کا باعث بنا۔

انہوں نے کہا کہ وہ وقار یونس پاکستان کرکٹ کو دینے پر ناز کرتے ہیں جس نے ریورس سوئنگ باؤلنگ کو متعارف کروایا اور اب وہ ہر سال وقار یونس کے نام پر آل پاکستان کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کرتے ہیں۔

مرزا محمد ارشد کپڑے کی دوکان چلاتے ہیں لیکن وہ وقار یونس کے ایسے مداح ہیں کہ انہوں نے شاید ہی ان کا کوئی کرکٹ میچ ٹی وی پر نہ دیکھا ہو یا اگر کوئی میچ ٹی وی پر نہیں آیا تو اس کی رننگ کمنٹری ریڈیو پر نہ سنی ہو۔ وہ وقار یونس پر اس لئے بھی فخر کرتے ہیں کہ ان کا اسٹرائیک ریٹ کرکٹ میں اب بھی سب سے اچھا ہے۔

ان کو وقار یونس کے کیرئیر کے اعدادوشمار زبانی یاد ہیں ان کے مطابق اگر وقار ورلڈ کپ میں کپتانی نہ کرتے تو وہ مزید دو تین سال کرکٹ کھیل سکتے تھے کیونکہ نوجوان فاسٹ باؤلروں کی راہنمائی کے لئے ایک تجربہ کار باؤلر کی اس وقت ٹیم میں موجودگی انتہائی ضروری تھی جو کہ بھارت کے خلاف سیریز میں سچ ثابت بھی ہوئی ہے۔

وہاڑی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد سلیم رضوی کے مطابق وقار یونس کی پاکستان کر کٹ ٹیم میں شمولیت سے چھوٹے شہروں کے کھلاڑیوں کو نیا عزم اور حوصلہ ملا ہے اور اب چھوٹے شہروں سے کھلاڑی ملکی اور بین والاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ان کے بقول یہ علاقہ فاسٹ باؤلرز کی سر زمین ہے اور یہاں کے قدرتی ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لئے وقار یونس کو یہاں کوچنگ کرنی چاہئے۔ انہوں نہ کہا کہ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن وقاریونس کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک شاندار الوداعی تقریب منعقد کرنے کا ارادہ کر رہی ہے جس کے مہمان خصوصی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر شہریار احمد خان ہوں گے۔

وقار یونس نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ اپنی مرضی سے کیا ہے لیکن دنیائے کرکٹ کو ان جیسا کنگ آف ریورس سوئنگ شاید ہی مل سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد