لاہور میں بارش کی آرزو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس مرتبہ لاہور میں گرمی جلدی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی پاک بھارت کرکٹ کی گرما گرمی بھی۔ لاہور میں ہونیوالے سیریز کے چوتھے ون ڈے کے اختتام کے اتنے گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی لوگ حیران ہیں کہ پاکستان یہ میچ کیسے ہار گیا۔ وہی پرانا سلسلہ ہے جس میں ہر دوسرا شخص، پہلے شخص سے کہتا سُنا جا رہا ہے۔ ’ کہا تھا نا۔ یہ ہو گا، اور ہوا‘۔ پاکستان کے 293 رنز کے جواب میں بھارت اپنی چار بہت بڑی وکٹیں صرف نوے رنز پر کھو چکا تھا۔ پھر ابھی تقریباً بھارت کو 130 رنز اور بنانے تھے جب اُسکا پانچواں کھلاڑی آؤٹ ہوا۔ مگر راہول ڈراوِڈ اور محمد کیف نے میچ کی طرف سفر ایسے مکمل کیا جیسے مکھن میں گرم چھری چل رہی ہو۔ کہا تھا ناں،گرمی ہے۔ یہ ایک حیران کن بیٹنگ تھی۔ اُس روایت کی ایک اور کڑی جو کہ بھارتی بلّےبازوں نے پچھلے چند برسوں میں قائم کی ہے۔ مگر اسکا کیا کیا جائے کہ کرکٹ میں اچھی روایتوں کے ساتھ حال کے برسوں میں کچھ ایسے متنازعہ امور کا بھی دخل رہا ہے جس کی وجہ سے شائقین ہر نتیجے کے بعد شکوک و شبہات کا شکار رہتے ہیں۔ میچ فکسِنگ کے الزامات ایک بار پھر ایسی باز گشت کی طرح سامنے آئے ہیں جس سے چھٹکارا تقریباً ناممکن لگ رہا ہے۔ میچ فکسنگ پاکستان کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف کا پسندیدہ موضوع ہے۔ لاہور میں کھیلے جانے والے ون ڈے کے بعد بھی اُن سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وجہ ہےکہ سب لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ یہ میچ بھارت جیتے گا۔ جواب میں انہوں نے پھر ایک بار اشارہ کیا کہ میچوں کے نتیجے کا دارومدار ’بڑی شرطوں‘ پر ہوتا ہے۔
راشد ایک عرصے سے یہ بات کرتے چلے آ رہے ہیں مگر وہ اور اُن جیسے بے شمار لوگ جو اس بات پر اُن سے متفق ہیں، ابھی تک اس ثبوت کو سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں، جو انہیں عوام کے سامنے سرخرو کر دے۔ موجودہ پاک بھارت سیریز کے بارے میں بھی لوگوں میں یہ تاثر عام تھا کہ اس کا نتیجہ ’دو ۔ تین‘ رہے گا۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ ایک سیاسی سیریز ہے جس کا مقصد کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں کی مہارت پرکھنے سے زیادہ کچھ اور ہے۔ اب بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سیریز میں صرف چار ون ڈے میچز ہی ہوتے اور یہ برابری پرختم ہو جاتی۔ ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ کرکٹ میں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ میچ چاہے پانچ ہوں یا سات یا پھر گیارہ کرکٹ سیریز برابری پر ختم ہو سکتی ہے۔ کیا گیارہ میچ بارش کی نظر نہیں ہو سکتے؟ چلیے گیارہ نہیں تو صرف ایک۔ لاہور میں دھوپ ہلکی ہے۔ خدا جانے یہ اَبر ہے یا گرد۔ مگر بات طے ہے کہ مجھ جیسے بہت سے کمزور دل لوگوں کی یہ آرزو ہے کہ 24 مارچ کو شہر میں بارش ہو جائے۔ باقی سیاسی لوگوں کے پاس بہتر پاک بھارت تعلقات کے لئے اور نسخے بھی ہوں گے۔ مثال کے طور پر کرکٹ میدان میں ایک ’ٹائیڈ ‘ میچ پاک بھارت ’ٹائیز‘ کے لئے بہت ہی اچھا شگون ہو سکتا ہے۔ دو میچ بھارت کے دو پاکستان کے اور پانچواں ٹائی۔ جس طرح کے سکرپٹ کے تحت ابھی تک سیریز کھیلی گئی ہے، جس طرح سے دونوں ملکوں میں حکومتی سطح پر ایک دوسرے کے لئے جگہ پیدا ہوتی ہے، ’ٹائیڈ‘ میچ ایک ناقابل یقین مگر ڈریم اینڈنگ ہو سکتا ہے۔ مگر پھر بھی کمزور دل خواتین و حضرات کے لئے بارش کا ہو جانا ہی بہتر ہے۔ اس کی وجہ کوئی اور نہیں بس لاہور میں گرمی ہی بہت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||