راجہ، مہاراجہ کا کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ آج سے کوئی تیرہ چودہ برس پہلے کی بات ہے۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمشن، گلوکار اسد امانت علی کے ساتھ ایک شام منعقد کر رہا تھا۔ جسے ایک اخبار میں رپورٹ کرنے کی ذمہ داری ایک نوجوان پاکستانی اخبار نویس کو سونپی گئی۔ وہ بھی ویسی تمام شاموں کی طرح ایک یادگار شام تھی، جس کا بہت حد تک کریڈٹ اُس وقت کے پاکستانی ہائی کمشنر شہریار ایم خان کو جانا چاہیے۔ شہریار خان صاحب بھوپال کے شاہی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور فنون لطیفہ سے اُن کی وابستگی اسی کا نتیجہ ہے۔ لندن میں منعقد اس تقریب میں جس کا یہاں ذکر ہے، انہوں نے چند گانوں میں طبلہ پر اسد امانت علی کی سنگت بھی کی۔ نوجوان اخبار نویس کے لئے یہ ایک ثبوت تھا ریاستی سطح پر موسیقی کی سرپرستی کا مگر ہائی کمشنر صاحب کی وساطت سے اُسکا یہ نتیجہ ایڈیٹر صاحب کی بارگاہ میں شرف قبولیت نہ پا سکا اور اُسکی تحریر بنا چھپے ہی رہ گئی۔ مگر اب بات کرکٹ کی ہے اور ریاست کو اس میں کوئی عار نہیں ہے کہ وہ کرکٹ کی سرپرستی کرتی نظر آئے۔ راجہ مہاراجہ ایک طویل عرصے سے کرکٹ کی سرپرستی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انگریزوں کے دور میں ہندوستان کی مختلف ریاستوں کی طرف سے کرکٹ کی سرپرستی اُس ریاست کے راجہ کے اچھّے ذوق کا ثبوت سمجھی جاتی تھی۔
شہریار ایم خان کو پاکستان کرکٹ کی باگ ڈور سنبھالے تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے اور اُنکے بقول وہ جلد بازی میں کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ تو اُن کا ساتھ دینے کے لئے موجود ہیں ایک راجہ، یعنی رمیض راجہ، جو حال ہی میں ہوئی تمام تبدیلوں کے باوجود بورڈ میں اپنے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر برقرار ہیں۔ لگتا ہے کہ رمیض راجہ بھی ڈپلومیسی کے بنیادی اصولوں سے واقفیت رکھتے ہیں۔ اور اوپر حکومت چاہے کسی کی بھی ہو، اپنے آپ کو چیف ایگزیکٹو کے عہدے کا مستقل اہل ثابت کئے ہوئے ہیں۔ یہ پاکستان کے حوالے سے نئی بات ہے۔ شہریار صاحب اور رمیض راجہ دونوں مستقبل میں تبدیلوں کی نوید دیتے سُنائی دیتے ہیں۔ بورڈ کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ بس صاحب ہندوستان کی ٹیم آ کر چلی جائے اور پھر دیکھیں ہم ملک میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے میں کیا تبدیلیاں کرتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈھانچے میں یقیناً تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اور کرکٹ بورڈ کی مشکلات کا اندازہ اُن سوالوں سے لگایاجا سکتا ہے۔ جو کرکٹ کے شائقین آجکل بورڈ کے اہلکاروں سے پوچھ رہے ہیں۔ کراچی میں میچ کیوں نہیں ہو رہے ؟ پشاور میں میچ کیوں نہیں ہو رہے؟ تمام ٹیسٹ میچ پنجاب میں کیوں ہو رہے ہیں؟ اس طرح کے سوالات کا جواب اگر کسی کے پاس ہے تو وہ وزارت داخلہ ہے۔ یہ کہہ دینا کہ ہندوستان نے کراچی میں ٹیسٹ میچ کھیلنے سے صرف اس لئے انکار کر دیا کہ کرکٹ بورڈ کے اہلکار اُنہیں کراچی میں لا اینڈ آرڈر سے متعلق صیحح معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھے، خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ کراچی کو آخر میں صرف ایک، ایک روزہ میچ منعقد کرنے کا ہی موقع مل رہا ہے۔ تو اُسکی ذمہ داری اُن حالات پر ہے۔ جن پر کرکٹ بورڈ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ تیرہ مارچ کو کراچی میں ہونے والےایک روزہ میچ کی ٹکٹوں کی فروخت کے حوالے سے ہوئی بدمزگی کے ذمہ داری بورڈ کو ضرور لینی چاہیے۔ کیا ان تمام سالوں کے بعد ہم اس قابل بھی نہیں ہوئے کہ ٹکٹوں کی فروخت جیسے عام کام کوتنازعہ کے بغیر انجام دے سکیں؟ وہ بھی کراچی جیسے شہر میں جہاں نظم و ضبط دوسرے شہروں سے زیادہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||