BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 March, 2004, 20:17 GMT 01:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت سیریز: راولپنڈی پر توجہ

اگلے میچ کی تیاری زوروں پر
اگلے میچ کی تیاری زوروں پر
کراچی کے ڈرامائی اور سنسنی خیز میچ کے بعد اب راولپنڈی کرکٹ کے شائقین کی بھرپور توجہ کا مرکز ہے جہاں منگل کو ایک اور دلچسپ مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

پنڈی میں میچ کے سلسلے میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے سکیورٹی کا انداز اسی طرح سخت ہے لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کھلاڑی اب سکیورٹی کے حصار سے باہر نکلنے کے لئے پرتول رہے ہیں جس کی ایک مثال راہول ڈریوڈ ہیں جواتوار کو سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تاریخی ورثے کے حامل ٹیکسیلا کی سیر کرنے گئے۔

دونوں ٹیمیں اپنی خوبیوں میں مزید چارچاند لگانے اور خامیوں کو نہ دوہرانے کی تدبیروں میں مصروف ہیں۔

اگلے میچ سے لوگوں کی توقعات بھی زیادہ ہیں۔
اگلے میچ سے لوگوں کی توقعات بھی زیادہ ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر ہارون رشید کو اپنے بولرز خصوصاً شعیب اختر اور محمد سمیع کی ابتدائی اوورز کی خراب بولنگ کے بارے میں بہت تشویش ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایکسٹرا رنز کی بھرمار کے نتیجے میں ان کی ٹیم نے پچاس نہیں بلکہ پچپن اوورز کرائے۔ یہی نہیں بلکہ یہ فاضل رنز ابتدائی اوورز میں دے کر ان کے بولرز نے بیس اوورز میں فیلڈ دائرے میں محدود ہونے کا فائدہ بھی کھودیا۔

لیکن وہ تصویر کا دوسرا رخ اس طرح دیکھتے ہیں کہ چونکہ طویل عرصے کے بعد یہ سیریز کھیلی جارہی ہے لہذا کھلاڑی ضرورت سے زیادہ پرجوش تھے۔ بولرز ابتدائی اوورز کی خراب کارکردگی کا مداوا کرنے میں کامیاب رہے جس کی وجہ سے بھارتی ٹیم جس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ چارسو رنز تک پہنچ جائے گی 349 رنز بناپائی۔

ہارون رشید نے کہا کہ اس میچ میں پاکستان کے نقطہ نظر سے اہم بات ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ تھی۔

سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سیریز کھیلنے سے قبل پاکستان ٹیم کو نیٹ پریکٹس سےزیادہ میچ پریکٹس کی ضرورت تھی جو اسے نہیں مل سکی اس بارے میں ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ٹیم نے سیریز کی تیاری کے لئے پریکٹس میچز کھیلے ہیں۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کوچ جان رائٹ سیریز کے شاندار آغاز پر خوش ہیں لیکن انہیں اس بات کی فکر ہے کہ اننگز کےدرمیانی حصے میں بولرز کی میچ پر گرفت ڈھیلی پڑگئی جس طرح آسٹریلیا میں پہلے پندرہ اوورز مہنگے رہتے ہیں۔

جان رائٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی آئیڈیل بولنگ پرفارمنس کا انتظار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیٹنگ پرفارمنس قابل دید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنچورین میں دونوں ٹیمیں مدمقابل آئیں تو زبردست ماحول تھا لیکن جب آپ دونوں ملکوں میں کھیل رہے ہوں تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔ کراچی کا میچ ہر کسی کے لئے غیرمعمولی اہمیت کا حامل تھا۔

وی وی ایس لکشمن پنڈی کا میچ کھیلیں گے یانہیں اس کا فیصلہ ان کی فٹنس دیکھ کر کیا جائے گا جان رائٹ کے مطابق بیٹنگ کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن انہیں فیلڈنگ میں پریشانی ہورہی ہے۔ بھارتی کوچ کے مطابق عرفان پٹھان کو وقت آنے پر ضرور موقع دیا جائے گا۔

پاکستان اور بھارت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ سلو اوور ریٹ کا رہا ہے ۔ کراچی میں دونوں ٹیمیں خاص کر کپتان سلواوور ریٹ پر جرمانے کی زد میں آئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد