BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2004, 18:28 GMT 23:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الوداع اسٹیو وا، الوداع

وا
وا

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، آسٹریلوی کپتان اسٹیو وا کی طویل اور شاندار اننگز بھی بالآخر وقت کے ہاتھوں اختتام کو پہنچی۔

تاہم وہ منظر شاید ہی کوئی بھول سکے جو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر اس عظیم کرکٹر کو الوداع کہتے ہوئے دیکھا گیا۔

اسٹیو وا اپنے الوداعی ٹیسٹ میچ کو اگرچہ سنچری اور جیت دونوں کے خوالے سے یادگار نہ بناسکے لیکن اس کے باوجود آسٹریلوی پرجوش شائقین نے جن میں وزیراعظم جان ہاورڈ بھی شامل تھے زبردست انداز میں اسٹیو وا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رخصت کیا۔

اپنے شاندار کیریئر کا اختتام کرتے ہوئے اسٹیو وا کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی مایوسی نہیں ہے بلکہ وہ خود کو اس لحاظ سے خوش قسمت تصور کرتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ 168 ٹیسٹ میچز کھیلنے میں کامیاب ہوئے جبکہ کئی کرکٹرز ایسے ہیں جنہیں ٹیسٹ کھیلنے کا موقعہ ہی نہ مل سکا۔

اسٹیو وا کا بین الاقوامی کیریئر 19 برس پر محیط ہے۔ وہ ایک مستند بیٹسمین کے طور پر منظر عام پر آئے۔ جس کے پاس درمیانی رفتار کی بولنگ سے بیٹنگ لائن میں شگاف ڈالنے کی اضافی خصوصیت بھی موجود تھی اور وہ محفوظ ہاتھوں میں مشکل سے مشکل کیچ کو آسانی سے دبوچنے کے فن میں بھی یکتا تھے۔

جب کمر کی تکلیف ان سے بولنگ چھینتی ہوئی نظر آئی تو اسوقت تک اسٹیو وا خود کو ایک ایسے بیٹسمین کے طور ماہرین اور نقادوں سے منواچکے تھے جس کے پاس بڑے سے بڑے اور خطرناک سے خطرناک بولر کا اعتماد سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور کتابی اسٹروکس کی شکل میں ترکش کے تمام تیر موجود تھے۔

انہوں نے اپنے کیریئر میں مخصوص انگلش موسم میں انگریز سوئنگ بولنگ کوبڑی مہارت سے بے اثر بنایا تو ویسٹ انڈیز کی تیز اٹھان والی وکٹوں پر والش ایمبروز اینڈ کمپنی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑی اننگز کھیلیں۔

وہ پاکستان کے عمران خان اور ٹو ڈبلیوز کے سامنے بھی اعتماد کا پیکر بنے رہے تو بھارت کے اسپن جال میں بھی پھنسنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔،

ابل ذکر بات یہ ہے کہ اسٹیو وا کو ایک عرصے تک اپنے جڑواں بھائی مارک وا کی رفاقت میسر آئی، دونوں نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار بخوبی نبھایا۔

وا
شاندار رخصت

ایلن بورڈر اور مارک ٹیلر سے ہوتے ہوئے جب قیادت کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی تو وہ اس فریضے کو بھی نبھانے میں ثابت قدم نظر آئے۔ ان کی قیادت میں آسٹریلوی ٹیم نے کامیابیوں کی نئی مثال قائم کی، اگرچہ کچھ حلقے اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ غیرمعمولی صلاحیتوں کی حامل موجودہ آسٹریلوی ٹیم کی قیادت کسی کو بھی سونپ دی جائے تو وہی ہوں گے جو وا نے حاصل کیے۔

لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسٹیو وا نے اپنی قائدانہ صلاحیت کے بھرپور مظاہرے سے یہ بات ثابت کی کہ ورلڈ کلاس ٹیم کو بھی ذہین کپتان کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحیح وقت پر بولنگ میں تبدیلی، ڈیکلیئریشن کے فیصلے اور حریف بیٹسمین کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا، غرض کپتانی کے تمام اہم پہلوؤں پر اسٹیو وا کی گہری نظر رہتی۔

انہوں نے 57 میں سے 41 ٹیسٹ میچوں میں فتح حاصل کی اور بحیثیت کپتان ان کے کیریئر کا نقطہ عروج ورلڈ کپ 1999 ہے ، جب کہ ایک عام کرکٹر کی حیثیت سے وہ 1987 کے ورلڈ کپ میں بھی آسٹریلیا کی جیت میں اہم کردار ادا کرچکے تھے۔

اسٹیو وا نے 168 ٹیسٹ میچوں میں 10927 رنز اسکور کئے جو ان کے ہم وطن ایلن بورڈر کے 11174 رنز کے بعد کسی بھی ٹیسٹ کرکٹر کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

ان کی 32 سنچریاں بھارت کے سنیل گاوسکر کی 34 سنچریوں کے بعد کسی بھی ٹیسٹ کرکٹر کی سب سے زیادہ سنچریاں ہیں۔(سچن ٹنڈولکر بھی 32 سنچریاں بناچکے ہیں) وہ ان فیلڈرز میں شامل ہیں جن کے نام کے آگے کیچز کی سنچری درج ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں نمایاں نام اسٹیو وا کے جڑواں بھائی مارک وا کا ہے جنہوں نے 181 کیچز لئے ہیں۔

اسٹیووا پر آسٹریلوی ون ڈے اسکواڈ کے دروازے بند کیے گئے تو عام خیال یہی تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ کی بساط بھی جلد لپیٹ دی جائے گی لیکن اسٹیو وا اپنے بعض پرانے ساتھی کرکٹرز کے منفی بیانات اور انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر کئے جانے کی مہم چلائے جانے کے باوجود کپتان اور بیٹسمین کی حیثیت سے شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے ناقدین کو بھرپور جواب دیتے رہے۔

وا
ان نکا اچھا کھیل اور برتاؤ یاد رکھا جائے گا

38 سال کی عمر کے باوجود ان کی آنکھوں میں رنز کی بھرپور پیاس موجود رہی۔ ان کے حوصلے آخر وقت تک بلند رہے۔ ان کے پیروں میں وہی پہلے جیسا دم خم تھا لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اسٹیو وا کو کرکٹ کے میدانوں سے رخصت ہونا پڑا۔

اور بلاشبہ کرکٹ سے محبت کرنے وار اسے سمجھنے والے شائقین یہی کہیں گے: الوداع اسٹیو وا آپ ایک عظیم کرکٹر ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد