| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک، بھارت سیریز پر سوالیہ نشان
پاکستان کی سرزمین پر پندرہ سال بعد بھارت کے ساتھ کرکٹ میچوں کی سیریز کروانے کی امید ایک مرتبہ پھر مبہم ہوتی جا رہی ہے۔ ہندوستان کی ٹیم کی طرف سے، جو اس وقت آسٹریلیا کے دورے پر ہے، یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ وہ پاکستان کے دورے پر جانے کے لیے خوش نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی بی سی آئی) کو اس سلسلے میں ایک خط بھی لکھا ہے۔ بی بی سی آئی کے صدر جگموہن ڈالمیا نے کہا ہے کہ انہیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں اور نہ ہی انہیں ٹیم کی طرف سے کوئی خط موصول ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ بات درست ہے اور اگر وہ کوئی خط بھیجتے ہیں تو میں ایک اخباری کانفرنس بلاؤں گا۔‘ ہندوستان کے خلاف سیریز کی منسوخی پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔ دوسری طور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارمحمدخـان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف پرقاتلانہ حملے کے باوجود بھارتی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان معمول کے مطابق ہوگا۔ کراچی سے عبدالرشید شکور کی ایک رپورٹ کے مطابق شہر یار خان نے یہ بھی کہا ہے کہ اس دورے کو یقینی بنانے میں سارک کانفرنس کے انعقاد سے بڑی مدد ملے گی۔ ان اطلاعات پر کہ بھارتی کرکٹرز نے راولپنڈی کےواقعے کے بعد اپنے کرکٹ بورڈ کو سکیورٹی کے خدشات کے بارے میں خط تحریر کیا ہے شہریارمحمد خان نے کہا کہ قدرتی بات ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ بھی اس صورتحال کو بہت غور سے دیکھ رہا ہوگا لیکن جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ کیا جائے گا کیونکہ نہ صرف کرکٹ کے نقطہ نظر سے بلکہ پاک بھارت سیاسی پس منظر میں اس سیریز کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ سارک کانفرنس معمول کے مطابق ہوگی لہذا اگر سارک کانفرنس منعقد ہوتی ہے توبھارتی کرکٹ ٹیم کا دورہ بھی ہوگا۔ شہریارمحمد خان نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو سارک کانفرنس سے مشروط نہیں کیا جاسکتا لیکن سارک کانفرنس کے انعقاد سے بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورے کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے بارے میں پائے جانے والے خدشات سارک کانفرنس کے بعد دور ہوجائیں گے۔ گزشتہ سال بھی بورڈ کو کراچی میں ایک خودکش دھماکے کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم کی طرف سے سیریز کی منسوخی پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ دونوں ممالک نے 1999 کے بعد سے اب تک ایک دوسرے کے خلاف کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ہے۔ 1999 میں پاکستان ٹیم بھارت میں جا کر کھیلی تھی۔ دونوں ٹیموں کا آخری مرتبہ آمنا سامنا جنوبی افریقہ میں عالمی کرکٹ کپ کے دوران ہوا تھا۔ اس میچ میں سچن تندولکر کے پچہتر گیندوں پر اٹھانوے رنز کی بدولت یہ میچ ہندوستان چھ وکٹوں کے ساتھ جیت لیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||