| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت آخر میں ڈھیر ہوگیا
بھارت کے مڈل آرڈر اور ٹیل کے ڈرامائی اختتام کے بعد آسٹریلیا بھی اپنی پہلی وکٹ تیس کے اسکور پر کھو چکا ہے۔ اوپنر جسٹن لیگنر کو اگرکر کی گیند پر ٹنڈولکر نے کیچ کر کے واپس پویلین بھیج دیا۔ لیگنر نے انتیس گیندوں کا سامنا کیا دو چوکے لگائے اور صرف چودہ رن بنائے ۔ ان کی جگہ پونٹنگ بیٹنگ کے لیے آئے۔ آسٹریلیا کے جسٹن لینگر اور میتھیو ہیڈن پہلی اننگ کا آغاز اس وقت کیا تھا جب بھارت کے تمام کھلاڑی تین سو چھیاسٹھ پر آوٹ ہو چکے تھے اور انہوں نے پہلے دن کے چار وکٹوں پر تین سو انتیس کے اسکور میں صرف سینتیس رن کا اضافہ کی۔ جمعہ کو شہواگ کی شاندار بیٹنگ اور ایک سو چورانوے رن سے انتہائی مستحکم پوزیشن حاصل کرنے کے بعد بھارت دوسرے دن کا کھیل زیادہ اعتماد سے شروع نہیں کر سکا اور اس کے باقی تمام کھلاڑی صرف سینتیس رن پر آؤٹ ہو گئے۔ بھارت کے اس عدم استحکام میں آسٹریلیا کی محتاط بولنگ کا کوئی کمال نہیں تھا بلکہ خود بھارت کے بیٹنگ لائن ہی پہلے دن کے اچھے اسکور سے غیر محتاط ہو گئی اور اس کی پانچویں وکٹ تین سو پچاس پر اور چھٹی اور ساتویں تین سو تریپن پر اور آٹھویں، نویں اور دسویں وکٹ تین سو چھیاسٹھ کے اسکور پر گر گئیں۔ آخری پانچ کھلاڑیوں میں صرف انیل کمبلے ہی تھے جو تین رن بنا سکے جب کے باقی سب کھلاڑی کوئی رن بنائے بغر آوٹ ہوئے۔ پہلے دن کا کھیل ملبورن میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں بھارت نے اپنی پہلی اننگز میں چار وکٹ کے نقصان پر تین سو انتیس رن بناکر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تھی۔ بھارتی اننگز کی نمایاں بات وریندر سہواگ کی جارحانہ سنچری تھی۔ انہوں نے پچیس چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے صرف دو سو تینتیس گیندوں پر ایک سو پچانوے رن بنائے۔ سہواگ نے آسٹریلیوی باؤلروں کے خلاف ملبورن کے تیز وکٹ کے چاروں طرف شاٹ کھیلے اور کبھی بھی انہیں حاوی نہیں ہونے دیا۔ تاہم ان کی بڑی اننگز میں آسٹریلوی فیڈرز کا ہاتھ بھی تھا، جنہوں نے ان کے کیچ دو مرتبہ ڈراپ کیے۔ سٹار بیٹسمین سچِن تندولکر اس سیریز میں ایک مرتبہ پھر کوئی بڑا سکور بنانے میں ناکام ہوئے۔ وہ بغیر کوئی رن بنائے بریٹ لی کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کے ہیرو راہول ڈراوِڈ نے اننچاس رن بنائے اور کپتان سٹیو واء کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ اس سے پہلے آکاش چوپرا اڑتالیس رن بنا کر میکگل کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ چار میچوں کی سیریز میں اگر بھارت یہ میچ جیت جاتا ہے تو وہ سیریز بھی جیت جائے گا۔ بھارت نے اس میچ کے لئے ٹیم میں ایک تبدیلی کی ہے۔ فاسٹ باؤلر ظہیر خان کو، جو زخمی ہونے کی وجہ سے ایڈلیڈ کے تاریخی ٹیسٹ میں نہیں کھیل پائے تھے، ٹیم میں پھر سے شامل کیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کے تیز باؤلر بریٹ لی بھی دوبارہ ٹیم میں واپس آگئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||