BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2003, 15:03 GMT 20:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہریار کی مشرف سے ملاقات

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین شہریار خان نے منگل کو ایوان صدر میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف یا سرپرست اعلیٰ بھی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد شہریارخان کی جنرل پرویز مشرف سے یہ پہلی ملاقات ہے جس میں پاکستان کرکٹ کے ان معاملات زیرغور آئے جن کا آنے والے دنوں میں شہریارخان کوسامنا کرنا ہوگا۔

پون گھنٹے کی اس ملاقات میں صدر جنرل پرویز مشرف نے شہریارخان کی صلاحیتوں اور تدبر پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے اقدامات سے پاکستان کرکٹ کو عروج حاصل ہوگا۔

شہریار خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ملاقات میں جو نکات سامنے آئے ان میں پاکستان کرکٹ کے مالی معاملات کو صاف شفاف طریقے سے چلایا جانا، ٹیم سلیکشن میں میرِٹ کو اولیت دینا اور پاکستان میں نچلی سطح کی کرکٹ کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا شامل ہے۔

صدر نے شہریارخان سے کہا ہے کہ 2007 ء ورلڈ کپ کے لئے ابھی سے تیاری شروع کردی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ گزشتہ ورلڈ کپ کی کوتاہیوں کو دوہرایا جائے۔

شہریار خان نے بتایاکہ ملاقات میں ان آئینی اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کےلئے درکار ہونگے۔ شہریار خان کے مطابق وہ تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف کو اعتماد میں لیں گے۔

اس سے قبل کرکٹ بورڈ میں کسی قسم کی غیرمعمولی تبدیلی کو نئے چیئرمین نے خارج ازامکان قرار دے دیا کہ کسی بھی فیصلے کے لئے آئینی تحفظ کی ضرورت ہوگی۔

توقیر ضیاء: ’ذاتی وجوہات پر استعفی دیا ‘

شہریار خان کو لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیاء کی جگہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جنہوں نے بظاہر نجی وجوہات کی بناء پر چار سال تک پاکستان کرکٹ کے سیاہ سفید کا مالک رہنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

تاہم تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے مطابق توقیرضیاء کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور تنقید کے اس سیلاب کے بعد چھوڑنی پڑی جس میں ان پر ٹیم سلیکشن میں مداخلت خصوصاً اپنے بیٹے کو ضرورت سے زیادہ مواقع فراہم کئے جانے ، کرکٹ بورڈ کے اہلکاروں کے درمیان زبانی جنگ میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکامی، جیسے الزامات عائد کئے گئے۔

ستم بالائے ستم جیو ٹی وی کو پاکستان نیوزی لینڈ ون ڈے سیریز کے نشریاتی حقوق کے تنازعہ نے جلتی پہ تیل کا کام کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد