| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
توقیر ضیاء نے استعفیٰ دے دیا
پاکستان کرکٹ بورڑ (پی سی بی) کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل توقیر ضیاء نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پیر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں واقع پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توقیر ضیاء نے اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور اس کی کئی وجوہات بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا ’میں نے یہ فیصلہ تیئس تاریخ کو کرلیا تھا۔ اس کا ٹیلی ویژن پر میچ نشر کیے جانے جانے کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ٹی وی والا جھگڑا اس کی وجہ بالکل نہیں۔۔۔‘ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو بتادیا تھا۔ ’وہ میرا فیصلہ قبول نہیں کررہے تھے۔ کل میرے اصرار پر انہوں نے قبول کیا ہے۔‘ مبصرین کا کہنا ہے کہ نجی ٹیلی ویژن چینل ’جیو ٹی وی‘ اور سرکاری ٹیلی ویژن ’پاکستان ٹیلی ویژن‘ کے درمیان نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان ہونے کرکٹ مقابلے نشر کرنے کا جھگڑا اس اس استعفیٰ کی وجہ ہے۔ میچ نشر کیے جانے کے بارے میں اس مناقشے کے بعد ہی سے یہ چہ مگوئیاں ہورہی تھیں کہ اس کے نتیجے میں بورڈ کے کسی بڑے اہلکار کی چھٹی ہو سکتی ہے۔ تاہم اپنے استعفی کے سلسلے میں توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی دباؤ کے، ذاتی وجوہات پر یہ فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ میں کئی دن پہلے ہی کر چکا تھا۔‘ انتہائی جذباتی دکھائی دینے والے توقیر ضیاء نے کہا کہ وہ اپنی نجی وجوہات کی بنا پر استعفی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ’فیصلہ مشکل تھا۔ مگر میں مطمئن ہوں۔‘ تاہم توقیر ضیاء کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے پیشہ ورانہ مستقبل کے لیے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ’میرے بیٹے کا مستقبل متاثر ہورہا تھا۔ اب اس کی قسمت جو بھی ہو۔‘ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے، جوپی سی بی کے پیٹرن بھی ہیں، توقیر ضیاء کا استعفی منظور کر لیا ہے۔ توقیر ضیاء گزشتہ چار برس سے پاکستان کرکٹ بورڑ کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس ماہ کی چودہ تاریخ تک اپنے عہدے پر فائز رہیں گے۔ توقیر ضیاء نے چودہ دسمبر انیس سو ننانوے کو پی سی بی کی ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا اور پورے چار سال کے بعد چودہ دسمبر کو اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ توقیر ضیاء کے دور میں پاکستان کرکٹ کئی تنازعات کا شکار رہی ہے، جس میں پاکستان کی ٹیم میں ان کے بیٹے جنید ضیا کی متنازعہ شمولیت اور نیو زی لینڈ کے خلاف موجودہ ایک روزہ سیریز کو ٹی وی پر دکھائے جانے کا ’سکینڈل‘ بھی شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||