محمد عامر کی بولنگ اور ’نو بال‘ کے نعرے

الیسٹر کک نے سیریز کے آغاز سے قبل خبردار کیا تھا کہ محمد عامر کو شائقین کی جانب سے تنقید کے لیے تیار رہنا چاہیے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالیسٹر کک نے سیریز کے آغاز سے قبل خبردار کیا تھا کہ محمد عامر کو شائقین کی جانب سے تنقید کے لیے تیار رہنا چاہیے

انگلینڈ اور پاکستان کے مابین جاری ٹیسٹ سیریز میں لندن کے لارڈز گراؤنڈ میں ہونے والے پہلے میچ میں سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ پاکستانی بالر محمد عامر کو توقع کے برعکس شائقین کی جانب سے تنقیدی جملوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

لیکن اولڈ ٹریفرڈ کے میدان پر کھیلے جارہے دوسرے ٹیسٹ میچ میں محمد عامر کو انگلش مداحوں کی جانب سے سخت جملے سننے کو ملے ہیں۔

جمعے کو جیسے ہی محمد عامر نے بالنگ شروع کی انگلیش شائقین نے ’نو بال‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔

انگلیش ٹیم کے کپتان الیسٹر کک کے مطابق شائقین کا یہ رویہ محمد عامر کی جانب سے سنہ 2010 میں کی جانے والی حرکت کا نتیجہ ہے۔

الیسٹر کک نے سیریز کے آغاز سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ محمد عامر کو شائقین کی جانب سے تنقید کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

جمعے کو ہونے والے پہلے دن کے کھیل کے دوران جب بھی محمد عامر بولنگ کرنے آئے تو بعض شائقین کی جانب سے پہلے نو بال کے نعرے لگائے گئے اور پھر اس کے بعد ’دھوکے باز‘ کے بھی نعرے لگائے گئے۔

خیال رہے کہ پاکستانی کرکٹ حکام نے محمد عامر کے ساتھ اس صورتحال کے پیش آنے کے اندیشے کے باعث سیریز سے قبل سے ہی کھیل کے ماہرِ نفسیات کی خدمات حاصل کر لیں تھیں جو محمد عامر کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشورے دیتے ہیں۔

شائقین کی جانب سے ان تنقیدی جملوں کے باوجود محمد عامر کی جانب سے کسی قسم کا ردِعمل نہیں دیکھنے میں آیا۔

یاد رہے کہ چھ برس قبل لارڈز کے میدان میں ٹیسٹ میچ کے دوران سپاٹ فکسنگ کے جرم میں محمد عامر کو برطانوی عدالت نے قید کی سزا سنائی تھی۔

اس کے ساتھ محمد عامر پر آئی سی سی نے پانچ سال کے لیے کرکٹ کھیلنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

محمد عامر اپنی سزا کاٹنے کے بعد پہلی بار انگلینڈ میں کرکٹ کھیل رہے ہیں۔