دورۂ انگلینڈ کے لیے ٹیم کا اعلان، عامر کی مشروط شمولیت

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے دورۂ انگلینڈ کے دوران کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے 17 رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت مصباح الحق کریں گے۔
اتوار کو لاہور میں انضام الحق نے قومی ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیم میں تین اوپنرز، پانچ فاسٹ بولرز اور دو سپنرز کو شامل کیا گیا ہے۔ محمد عامر کی قومی ٹیم میں شمولیت کو انگلینڈ کے ویزے کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔
٭ <link type="page"><caption> محمد عامر نے برطانوی ویزے کی درخواست</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2016/05/160520_aamir_uk_visa_tk" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> دورۂ انگلینڈ کے لیے کوچ کے بغیر تربیتی کیمپ شروع</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2016/05/160531_cricket_team_camp_sh" platform="highweb"/></link>
قومی ٹیسٹ ٹیم میں محمد حفیظ، شان مسعود اور سمیع اسلم کو بطور اوپنر شامل کیے گئے ہیں۔ انضمام الحق کے مطابق محمد حفیظ دورۂ انگلینڈ کے لیے فٹ ہوگئے ہیں۔
ٹیم میں مڈل آرڈر بلے بازوں میں اظہر علی، یونس خان، مصباح الحق، اسد شفیق اور افتخار احمد شامل کیے گئے ہیں۔
محمد رضوان اور سرفراز احمد کو بطور وکٹ کیپر بیٹسمین ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 14 جولائی سے لارڈز میں کھیلا جائے گا۔
انگلش کنڈیشنز میں فاسٹ بولرز انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں جس کے لیے پاکستان ٹیم میں پانچ فاسٹ بولرز کو شامل کیا گیا ہے۔
محمد عامر کی ٹیم میں شمولیت کو انگلینڈ کے ویزے کے ساتھ مشروط کیا گیا اور جبکہ ان کے علاوہ دیگر فاسٹ بولرز میں راحت علی، عمران خان، وہاب ریاض اور سہیل خان کو شامل کیا گیا ہے۔
انضمام الحق نے بتایا کہ لیگ سپنر یاسر شاہ بھی فٹ ہوگئے ہیں جس کے بعد یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر بطور سپن بولر ٹیم کے ساتھ جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
چیف سلیکٹر نے ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری پہلی خواہش تو یہی تھی کہ پاکستان ٹیم کے کوچ مکی آرتھر بھی اس موقع پر یہاں ہوتے لیکن چونکہ وہ نہ آسکے اس لیے ان کی مشاورت کے ساتھ کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر فاسٹ بولر محمد عامر ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہ ہو سکے تو پھر پاکستان اے ٹیم جو کہ دورۂ انگلینڈ کے لیے جا رہی ہے اس میں سے کسی بہتر فاسٹ بولر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔‘
واضح رہے کہ محمد عامر کو اپنے دیگر دو ساتھی کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف کے ساتھ سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں نہ صرف آئی سی سی کی طرف سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا بلکہ لندن کی عدالت نے بھی انھیں سزاسنائی تھی۔
محمد عامر پابندی مکمل ہونے کے بعد دوبارہ پاکستانی ٹیم میں شامل ہوئے ہیں اور نیوزی لینڈ بنگلہ دیش اور بھارت جاچکے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو عامر کے ویزے کے لیے اس لیے بھی امید ہے کہ کامن ویلتھ ممالک میں شامل نیوزی لینڈ انھیں ویزا جاری کرچکا ہے۔



