اولمپک مشعل برازیل پہنچ گئی، ریلی کا آغاز

یہ مشعل ایمازون سے لے کر برازیل کی جنوبی سرحد تک 300 قصبوں سے گزرے گی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیہ مشعل ایمازون سے لے کر برازیل کی جنوبی سرحد تک 300 قصبوں سے گزرے گی

اولمپک مشعل برازیل پہنچ گئی ہے جہاں اولمپک ریلی کا آغاز ہوگیا ہے جو اب اگست میں ریو کے مقام پر اولمپک کھیلوں کے آغاز پر ختم ہوگی۔

یہ مشتعل ایک چھوٹی سے لالٹین میں ایک خصوصی پرواز کے ذریعے جنیوا سے برازیلیا لائی گئی۔

صدر جیلما روسیف نے اس کی مدد سے وہ اولمپک مشعل جلائی جسے لے کر 12000 لوگ پورے برازیل میں دوڑیں گے۔

یہ صدر روسیف کی آخری ایسی عوامی سرگرمی ہوسکتی ہے کیونکہ انھیں ممکنہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔

آئندہ ہفتے سینیٹ میں ووٹ دے کر یہ طے کیا جائے گا کے آیا ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے یا نہیں۔

یہ مشتعل ایک چھوٹی سے لالٹین میں ایک خصوصی پرواز کے ذریعے جنیوا سے برازیلیا لائی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیہ مشتعل ایک چھوٹی سے لالٹین میں ایک خصوصی پرواز کے ذریعے جنیوا سے برازیلیا لائی گئی

اگر مواخذے کے حق میں ووٹ دیے جاتے ہیں تو صدر روسیف کو عہدہ چھوڑنا ہوگا اور نائب صدر ان کی جگہ لے لیں گے۔

برازیلیا میں بی بی سی کے نامہ نگار وائر ڈیوس کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جب برازیل گرتی ہوئی معیشت کے باعث سیاسی بحران کا شکار ہے ایسے میں اولمپک مشعل کے 95 دن کے سفر میں لوگوں کی جانب سے ریو میں ہونے والے کھیلوں کے کے لیے حمایت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

یہ مشعل ایمازون سے لے کر برازیل کی جنوبی سرحد تک 300 قصبوں سے گزرے گی۔ یہ پانچ اگست کو ریو کے ماراکانا سٹیڈیم پہنچے گی۔

برازیل میں پہلے مشعل برداروں میں ایک شامی پناہ گزین بھی ہوں گے جو اب برازیل میں مقیم ہیں۔

اولمپک مشعل کی برازیل میں آمد کے حوالے سے زیادہ گرمجوشی نہیں دکھائی دے رہی کیونکہ ملک کی صدر کو مواخذے کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناولمپک مشعل کی برازیل میں آمد کے حوالے سے زیادہ گرمجوشی نہیں دکھائی دے رہی کیونکہ ملک کی صدر کو مواخذے کا سامنا ہے