کرکٹ میں ’اجارہ داری‘ پر انڈیا کی سپریم کورٹ برہم

سپریم کورٹ نے انڈیا میں کرکٹ کے نظم و نسق کا نوٹس لیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے انڈیا میں کرکٹ کے نظم و نسق کا نوٹس لیا ہے

انڈیا کی سپریم کورٹ نے انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) پر کرکٹ میں ’اجارہ داری اور جی حضوري‘ کی روایت کو فروغ دینے کے لیے سخت تنقید کی ہے۔

چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس ایف ایم آئي خلیفہ اللہ کی بنچ نے کہا کہ نوجوان کرکٹر اپنے کریئر کے خراب ہونے کے ڈر سے بی سی سی آئی کے تمام احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔

بنچ نے کہا: ’بہت سے نوجوان وراٹ کوہلی اور مہندر سنگھ دھونی جیسے کرکٹر بننا چاہتے ہیں۔ اگر وہ بی سی سی آئی کی باتیں نہ مانیں تو انھیں مواقع ہی نہ ملیں۔ کئی بار بی سی سی آئی کے اعلیٰ افسران کی راہیں مسدود کر دیتے ہیں۔‘

بنچ نے مزید کہا: ’آپ (بی سی سی آئی) نے کرکٹ کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ اگر کوئی اس ملک میں کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے تو اسے آپ کی ہر بات ماننی ہوگی۔ اپنے اراکین پر آپ کا اجارہ ہے اور آپ دوسرے لوگوں کو (بورڈ کا) رکن بننے ہی نہیں دیتے۔‘

عدالت نے سینیئر وکیل گوپال سبرامنیم کو بی سی سی آئی میں اصلاحات کے لیے قائم کی جانے والی ’آر ایم لوڈھا کمیٹی‘ کی سفارشات کو نافذ کرنے کے لیے اپنا صلاح کار مقرر کیا ہے۔

لوڈھا کمیٹی رپورٹ کی سفارشات پر غور و خوض کیا گيا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنلوڈھا کمیٹی رپورٹ کی سفارشات پر غور و خوض کیا گيا

سپریم کورٹ نے کہا کہ کرکٹ سے منسلک معاملات کے نظم و نسق میں توازن کی ضرورت ہے اور بی سی سی آئی کو کرکٹ سے منسلک ہر چیز کو کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ کے مطابق: ’اگر کوئی شمال مشرقی ریاست بی سی سی آئی کا رکن بننا چاہتی ہے تو آپ اسے رکن بنائیں گے ہی نہیں۔ آپ انھیں مساوی حقوق دینا ہی نہیں چاہتے۔ آپ کی ٹیم انڈیا پر اجارہ داری ہے کیونکہ اسے آپ منتخب کرتے ہیں اور یہ حق کسی اور کو نہیں دینا چاہتے۔ ہمیں اب چیزوں میں توازن لانا ضروری ہے۔‘

بی سی سی آئی کے کئی ریاست رکن لوڈھاکمیٹی کی ’ایک ریاست ایک ووٹ‘ کی سفارش کی مخالفت کر رہے ہیں جس پر سپریم کورٹ نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔

انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہBCCI

،تصویر کا کیپشنانڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے

کورٹ نے کہا: ’جب آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) ایک ملک ایک ووٹ کی پالیسی اپنا سکتی ہے تو بی سی سی آئی میں ایک ریاست ایک ووٹ کی پالیسی کیوں نہیں نافذ کی جا سکتی؟‘

تمل ناڈو، گجرات اور مہاراشٹر جیسی کرکٹ ایسوسی ایشن ’ایک ریاست ایک ووٹ‘ کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ان ریاستوں میں ایک سے زیادہ کرکٹ ایسوسی ایشنیں ہیں۔