ویسٹ انڈیز ورلڈ ٹی 20 کی عمدہ ترین ٹیم

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, احمر نقوی
    • عہدہ, سپورٹس تجزیہ کار

اگر آپ قدیم یونان کی تہذیب کی تاریخ دیکھیں تو آپ ایتھنز اور سپارٹا کی رقابت کی کہانی ملتی ہے۔ سادہ الفاظ میں ایتھنز فلسفیوں، فنکاروں اور شاعروں کی سرزمین تھا۔ یہ مالامال اور شاداب علاقہ تھا، جب کہ دوسری طرف ایتھنز کا دشمن سپارٹا اس سے بالکل مختلف تھا۔ ان کا معاشرہ جنگ پر مرکوز تھا جہاں ہر فرد کو بچپن ہی سے خود مختار اور خودکفیل جنگجو بننے کی تربیت دی جاتی تھی۔

ممبئی کے وانکھیڑے سٹیڈیم میں ٹی20 کے سیمی فائنل میں بھی اسی قسم کی جنگ دیکھنے میں آئی۔ ایک طرف انڈیا تھا۔ دنیا کی امیر ترین کرکٹ ٹیم، اور تینوں فارمیٹس میں چوٹی پر یا چوٹی کے قریب۔ دوسری طرف ویسٹ انڈیز تھا، جس کے کھلاڑیوں پر الزام لگتے رہے ہیں کہ وہ پیسوں کے بھوکے ہیں، اور جو صرف اور صرف ٹی20 کے لیے بنے ہیں۔

ٹی20 وہ فارمیٹ ہے جہاں ایک غلطی کی بھاری قیمت نہیں چکانی پڑتی، بعض اوقات ان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ انڈیا کی حکمتِ علمی یہ تھی کہ غلطیاں کم کی جائیں، خاص طور پر بولنگ کے شعبے میں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

لینڈل سمنز تین بار نو بالوں پر آؤٹ ہوئے اور انھیں پویلین سے واپس بلایا گیا، اور ہر دفعہ انڈیا نے قیمت چکائی۔ انڈیا عام طور پر ایسی غلطیاں نہیں کرتا، لیکن آج وہ اتنی زیادہ تھیں کہ انھوں نے وراٹ کوہلی کی اننگز کا اثر بھی زائل کر دیا۔

ویسٹ انڈیز ٹورنمنٹ کے نمبر ایک کھلاڑی کو چند سیکنڈ کے اندر اندر تین بار آؤٹ کرنے میں ناکام رہا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

کوہلی نے اس کا جواب ایک شاندار اننگز کی صورت میں دیا، یعنی صرف ایک چھکے باوجود تقریباً دو رنز فی گیند کا سٹرائیک ریٹ۔

وہ وکٹوں کے درمیان کسی اولمپک ایتھلیٹ کی طرح بھاگے۔ ان کی اننگز کی خاص باتیں ڈاٹ بالیں ختم کرنا، تیزی سے بھاگنا، اور ہر لمحے اپنا کنٹرول برقرار رکھنا تھا۔ بظاہر یہ چیزیں سادہ نظر آتی ہیں لیکن اصل چیز ان پر عمل درآمد ہے۔

حسبِ توقع ویسٹ انڈیز کے سپارٹنز نے اس کے مخالف حکمتِ عملی اختیار کی۔ وہ ڈاٹ بالیں کھیلتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ چھکے لگاتے رہے۔ یہ ایسی حکمتِ عملی ہے جس میں غلطیوں کی بہت گنجائش ہوتی ہے، لیکن ویسٹ انڈیز کے پاس دو چیزیں ہیں جنھوں نے ان کی مدد کی، اچھی فیلڈنگ اور لمبی ہٹنگ۔ اب بھی دنیائے کرکٹ میں کوئی ویسٹ انڈینز کی طرح لمبی ہٹیں نہیں لگا سکتا، اور انڈیا کے بولروں کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty

کرکٹ کے شائقین ایک لمبے عرصے سے ویسٹ انڈین کرکٹ کے زوال کا رونا رہے تھے، لیکن یہ نقطۂ نظر متعصبانہ ہے۔ دراصل ویسٹ انڈیز کی یہ ٹیم ورلڈ ٹی 20 کی عمدہ ترین ٹیم ہے، اور اب وہ اتوار کو ایک اور فائنل کھیلنے جا رہے ہیں۔ سپارٹا والے اپنی آخری جنگ کے منتظر ہیں۔