کرکٹ کو ہیروز کی ضرورت ہے سٹارز کی نہیں: وقار

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے ہیئڈ کوچ وقار یونس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر قوم سے معافی مانگ لی اور کہا ہے کہ شکست کی وجوہات بورڈ کے سامنے رکھ دی ہیں۔
لیکن مستقبل میں جیت کے لئے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لانا ہوگی۔
لاہور سے مقامی صحافی اے این خان نے بتایا کہ وقار یونس نے قذافی سٹیڈیم لاہور میں ورلڈ کپ اور ایشیا کپ میں قومی ٹیم کی شکست کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کی۔
وقار یونس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ وہ میگا ایونٹ میں شکست پر پوری قوم سے معافی مانگتے ہیں قوم کی ماؤں اور اپنی ماں سے بھی معافی کے خواستگار ہیں۔
وقار یونس نےکہا کہ ہمیں واضح کرنا ہو گا کہ کون ہیرو ہے اور کون سٹار ہے۔ ہمیں سٹارز نہیں ہیروز چاہئیں، کرکٹ ہیروز کا کھیل ہے سٹارز کا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری ایمانداری سے اپنا کام کیا اور آگے بھی کریں گے لیکن یہ وقت کاسٹمیٹکس سرجری کا نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی کا ہے جس کا آغاز ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلی سے کرنا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ کرکٹ کے اندر سیاست کو ختم کرنا ہوگا۔ آنکھیں بند کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، آنکھیں کھولنا ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وقار یونس نے کہا کہ اگر ان کے جانے سے ٹیم کی پرفارمنس بہتر ہوسکتی ہے تو آج ہی ہٹا دیا جائے لیکن کوچ یا کپتان کو ہٹانے سے یا چیئرمین شہریار خان اور نجم سیٹھی کو تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ہمیں غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہوگی، حقائق چھپانے کا وقت نہیں بلکہ سامنے لاکر ان کی روشنی میں طویل مدتی پالیسیاں مرتب کرنے کا وقت ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وقار یونس نے کہا کہ کرکٹ ٹیم میں کوئی سیاست یا گروپ بندی نہیں ہے اور نہ ہی لڑکے اس قابل ہیں کہ وہ ٹیم کے اندر گروپ بناسکیں، مسئلہ صرف پرفارمنس کا ہے جو ہم نہیں دے سکے۔
وقار یونس نے کہاکہ انہوں نے شکست کی وجوہات سے بورڈ کو آگاہ کردیا ہے اور بتادیا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ پر توجہ دینا ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ جس طرح کئی سالوں تک بین الاقوامی کرکٹ سے دور رہ کر بھی جنوبی افریقہ نے کیا اور پابندی کے خاتمے کے فوری بعد بھی ایک مضبوط ٹیم کے طور پر سامنے آئی۔ صرف کوچ تبدیل کرکے وٹمور، لاسن یا باب وولمر کو لانے سے کھیل بہتر نہیں ہوسکتا۔



