آفریدی اور وقار کے فیصلے وطن واپسی پر

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، موہالی
پاکستان کے ٹوئنٹی کپتان شاہد آفریدی اور کوچ وقار یونس نے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اپنے مستقبل کے فیصلے وطن واپسی تک مـؤخر کر دیے ہیں۔
شاہد آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف میچ شروع ہونے سے قبل کہا کہ انھوں نے ریٹائرمنٹ کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اس بارے میں جو بھی کہنا ہوگا اپنے عوام کے سامنے کہیں گے۔
کوچ وقاریونس نے آسٹریلیا سے شکست کے بعد بی بی سی کے استفسار پر کہا کہ وہ پاکستان جا کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار سے بات کریں گے اس کے بعد ہی اصل صورتحال واضح ہو سکے گی۔
آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد کپتان کوچ اور چیف سلیکٹر یہ تین ایسے عہدے ہیں جن پر تبدیلیاں یقینی دکھائی دے رہی ہیں۔
شاہد آفریدی کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد کپتان نہیں رہیں گے۔
خود شاہد آفریدی نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے بعد کہا تھا کہ آسٹریلیا کے خلاف میچ ممکنہ طور پر ان کا آخری انٹرنیشنل میچ ہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے وقار یونس کو انگلینڈ کے دورے تک کوچ برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا لیکن اب ان کے ارادے بھی بدل چکے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وقاریونس کے مستقبل کا فیصلہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد کیا جائے گا۔
نئے کوچ کے طور پر عاقب جاوید کا نام لیا جا رہا ہے حالانکہ شہریار خان کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ غیرملکی کوچ لائیں اور اس سلسلے میں ٹام موڈی کا نام بھی سننے میں آیا ہے۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ چیف سلیکٹر ہارون رشید سلیکشن میں کیے گئے کئی غلط فیصلوں کے باوجود اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے حالانکہ شہریار خان نے کہا تھا کہ یہ سلیکشن کمیٹی اب نہیں رہے گی۔



