پرانے سکرپٹ کے ساتھ نئی شکست

آفریدی پاکستان جا کر ٹیم کے ساتھ اپنے مستقبل کے متعلق اعلان کریں گے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآفریدی پاکستان جا کر ٹیم کے ساتھ اپنے مستقبل کے متعلق اعلان کریں گے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، موہالی

رنز نہ روکنے اور رنز نہ بنانے کے پرانے سکرپٹ کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی کہانی انتہائی مایوس کن انداز میں اختتام کو پہنچ گئی۔

پاکستانی فاسٹ بولرز کو تختۂ مشق بناتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم نے بیس اوورز میں چار وکٹوں پر 193 رنز بنا ڈالے جو اس کا پاکستان کے خلاف دوسرا سب سے بڑا سکور ہے۔

جواب میں پاکستانی بیٹسمینوں نے اپنی پرانی روش قائم رکھتے ہوئے 172 رنز پر گھٹنے ٹیک دیے۔

پاکستانی ٹیم کی ڈوبتی نیا اسی وقت کنارے لگتی جب وہ آسٹریلیا کو ہراتی اور پھر آسٹریلوی ٹیم بھارت کو شکست دیتی لیکن پاکستانی کھلاڑیوں نے اس کا موقع ہی نہیں آنے دیا۔

آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ اور شین واٹسن نے جس اعتماد سے پاکستانی بولرز کو کھیلا اور پاکستانی بے ترتیب فیلڈنگ کا فائدہ اٹھایا اس سے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ایک بڑے سکور کے ذریعے پاکستانی ٹیم کو قابو میں کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

سمتھ اس میچ سے قبل پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کے خلاف صرف اٹھائیس رنز بنا پائے تھے لیکن اس میچ میں انھوں نے پچھلی تمام کسر نکال دی۔

انہوں نے سات چوکوں کی مدد سے تینتالیس گیندوں پر اکسٹھ رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔

گلین میکسویل کے ساتھ ان کی شراکت میں باسٹھ قیمتی رنز بنے۔ میکسویل اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں صرف اٹھارہ گیندوں پر ایک چھکے اور تین چوکوں کی مدد سے تیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

وہاب ریاض

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنوہاب ریاض نے شروع میں اچھی بولنگ کی لیکن ان کے آخری دو اوور مہنگے ثابت ہوئے

شین واٹسن نے صرف اکیس گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے ناقابل شکست چوالیس رنز بنائے جس میں تین چھکے اور چار چوکے شامل تھے۔ انھوں نے اپنے کپتان کے ساتھ چوہتر رنز کی اہم شراکت قائم کی۔

پاکستانی ٹیم نے آٹھویں اوور میں ستاون رنز پر تین وکٹیں حاصل کر کے اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی لیکن اس کے بعد پاکستانی بولرز اپنی چوکڑی بھول گئے۔

محمد عامر پچھلے میچ کی طرح اس بار بھی انتہائی غیر موثر ثابت ہوئے، خاص طور پر اپنے آخری دو اوورز میں وہ بہت مہنگے ثابت ہوئے۔ ان کے چار اوورز میں انتالیس رنز بنے۔

محمد سمیع جنھوں نے پچھلے میچوں میں اچھی بولنگ کی تھی اس بار سمتھ اور واٹسن کے رڈار میں آگئے اور ان کے چار اوورز میں ترپن رنز بنے۔

وہاب ریاض نے جنھیں محمد عرفان کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا عثمان خواجہ اور ڈیوڈ وارنر کو بولڈ کر کے اسی میدان میں ورلڈ کپ سیمی فائنل میں اپنی عمدہ بولنگ کی یاد تازہ کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے آخری دو اوورز میں وہ بھی آسٹریلوی بیٹسمینوں کو قابو نہ کرسکے۔

لیفٹ آرم سپنر عماد وسیم نے ایرون فنچ اور گلین میکسویل جیسی توپوں کو خاموش کرایا ۔ کپتان شاہد آفریدی نے بھی نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے چار اوورز میں صرف ستائیس رنز دیے۔

آسٹریلیا کے بڑے سکور کا بھرپور انداز سے جواب دینے کے لیے پاکستانی ٹیم کو ایک مضبوط بنیاد کی ضرورت تھی جو اسے نہ مل سکی اور احمد شہزاد نے ایک غیرذمہ دارانہ شاٹ پر اپنی وکٹ صرف ایک رن پر گنوا دی۔

شرجیل خان نے ایک بار پھر عمدہ بیٹنگ کی لیکن ان کی چھ چوکوں سے مزین تیس رنز کی اننگز فاکنر نے ختم کر دی۔

عمراکمل نے پچھلے میچ کی کچھوے کی چال کے بجائے اس بار خرگوش کی سی تیزی دکھائی لیکن بتیس رنز بناکر وہ بھی چل دیے۔

مشکل میں گھر چکی پاکستانی ٹیم کی آخری امید اپنے کپتان سے وابستہ تھی لیکن ایڈم زیمپا کو چھکا لگانے کے بعد اگلی ہی گیند پر وہ سٹمپ آؤٹ ہو ہوگئے۔

ممکنہ طور پر یہ ان کی آخری بین الاقوامی اننگز تھی۔

آفریدی کے آؤٹ ہونے پر پاکستان کا سکور چار وکٹوں پر ایک سو دس رنز تھا۔

خالد لطیف نے اگرچہ چھیالیس رنز سکور کیے لیکن وہ اور شعیب ملک تمام تر کوشش کے باوجود آسٹریلوی بولنگ پر حاوی نہ ہو سکے۔

شعیب ملک نےآؤٹ ہوئے بغیر چالیس رنز بنائے۔

خالد لطیف اور عماد وسیم کی وکٹیں لگاتار گیندوں پر گریں تو یہ میچ محض رسمی کارروائی کا روپ دھار چکا تھا لیکن آسٹریلوی ٹیم میچ ختم کرنے تک سرفراز احمد اور وہاب ریاض کی وکٹیں بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔