شکست کے بعد باکسر ہسپتال پہنچ گیا

یوبینک کا کہنا تھا کہ انھیں تو صرف بیلٹ چاہیے تھی جو انھوں نے حاصل کر کے برطانوی چیمپیئن بننے کا خواب پورا کر لیا
،تصویر کا کیپشنیوبینک کا کہنا تھا کہ انھیں تو صرف بیلٹ چاہیے تھی جو انھوں نے حاصل کر کے برطانوی چیمپیئن بننے کا خواب پورا کر لیا

برطانیہ میں اوسط وزن کے باکسنگ کے ایک مقابلے میں کرس یوبینک جونیئر نے اپنے مدمقابل باکسر نک بلیک ویل پر ایسے حملے کیے کہ انھیں ہسپتال لے جانا پڑ گیا۔

دسویں راؤنڈ میں ڈاکٹروں کے مشورے پر ریفری کو میچ روک دینا پڑا جن کا کہنا تھا کہ بلیک ویل کی بائیں آنکھ کے اوپر سوجن کے سبب وہ مقابلہ جاری رکھنے کے قابل نہیں تھے۔

بعد میں انھیں رنگ سے سٹریچر پر ہسپتال لے جایا گيا۔

یوبینک جونیئر نے کہا: ’میں نے ان پر بعض زوردار وار کیے، شاید ریفری کو مقابلہ اور پہلے ہی روک دنیا چاہیے تھا۔‘

بلیک ویل کو سٹیریچر پر ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے ضروری طبی مدد رنگ میں ہی فراہم کی گئی جبکہ ہسپتال لے جاتے وقت انھیں آکسیجن مہیا کی جا رہی تھی۔

یو بینک جونیئر نے چینل فائیو سے بات چیت میں کہا: ’اسی کی تو باکسنگ کو ضرورت ہے، دو جنگجو کھڑے ہوتے ہیں اور لڑتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میں ہر اس شخص کی عزت کرتا ہوں جو رنگ میں قدم رکھتا ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ انہیں وہاں سے سٹریچر پر نکلنا پڑا۔ مجھے تو صرف ان کی بیلٹ چاہیے تھی جو میں نے کر دکھایا۔ میں نے برطانوی چیمپیئن بننے کا اپنا خواب پورا کر لیا۔‘

برائٹن سے تعلق رکھنے والے باکسر یوبینک کا اس مقابلے میں شروع سے ہی دبدبہ رہا جنھوں نے تیسرے اور چوتھے راؤنڈ میں کئی شاندار جیب اور اپر کٹ مکے برسا کر ان کی ناک سے خون نکال دیا۔

یو بینک جونیئر تیسرے راؤنڈ کے بعد سے ہی بلیک ویل پر تابڑ توڑ حملے کرتے رہے لیکن بلیک ویل بھی اپنا بچاؤ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر ان کو کچھ پریشان کیا۔

لیکن نویں راؤنڈ میں یوبینک جونیئر نے اپنے زبردست جیب کا استعمال کیا اور بلیک ویل کو قابو میں کر لیا۔ اس کے بعد حالات اس مقام پر پہنچ گئے کہ دسویں راؤنڈ میں ڈاکٹر کو طلب کرنا پڑ گیا۔