سپر ٹین مرحلے کے پہلے میچ میں انڈیا کی شکست

دھونی کی ٹیم سپنروں کے ہاتھوں ہار گئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندھونی کی ٹیم سپنروں کے ہاتھوں ہار گئی

آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ کے سپر 10 مرحلے کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے انڈیا کو ناگ پور کی سپین لیتی ہوئی وکٹ پر 47 رنز سے شکست دے دی ہے۔

یہ میچ جیتنے کے لیے نیوزی لینڈ نے انڈیا کو 127 رنز کا ہدف دیا تھا جس کے تعاقب میں انڈیا کی ٹیم مکمل اوور بھی نہ کھیل سکی اور 19ویں اوور میں 79 رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

اس میچ میں نیوزی لینڈ نے ٹیم میں تین سپنر کھلائے اور اس کا یہ فیصلہ انتہائی کارگر ثابت ہوا اور ان سپن بولروں نے مجموعی طور پر نو وکٹیں لیں۔

انڈیا کی طرف سے کوہلی اور دھونی نے کچھ مزاحمت کی۔ دھونی نے سب سے زیادہ 30 رن بنائے جبکہ کوہلی 23 رن بنا سکے۔ ان کے علاوہ کوئی بلے باز بھی دس کے ہندسے سے آگے نہ بڑھ سکا۔

دھونی نے میچ کے بعد بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس میچ میں ان کی ہار کا سبب خراب بیٹنگ بنی۔

انڈیا پر نیوزی لینڈ کے بولر اش سوڈھی سب سے زیادہ بھاری پڑے۔ اش نے جن کی پیدائش لدھیانہ کی ہے، چار اوور میں 18 رن دے کر تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔

ان کے علاوہ مچل سینٹنر نے بھی تین وکٹیں لیں جبکہ نیتھن میککلم دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔

انڈیا کی طرف سے شیکھر دھون اور روہت شرما نے اننگز کا آغاز کیا تو پہلے ہی اوور نیتھن میک کلم نے دھون کو آؤٹ کر دیا۔

دھون کے آؤٹ ہونے کے بعد کوہلی کھیلنے آئے۔

دوسرے اوور میں بھارت کا سکور 10 رن تھا۔ تیسرے اوور کی دوسری گیند پر روہت شرما سٹمپ آؤٹ ہو گئے جس کے کچھ ہی دیر بعد سریش رائنا کیچ آؤٹ ہوگئے۔

رائنا کے بعد یوراج کریز پر آئے مگر وہ بھی زیادہ دیر تک نہ ٹھہر سکے اور صرف 5 رن بنا کر میک کلم کی گیند پرآسان کیچ دے بیٹھے۔

یوراج کے آؤٹ ہونے پر انڈیا کا سکور 26 رنز تھا اور اس کے چار کھلاڑی پویلین جا چکے تھے۔

اس موقع پر دھونی نے کوہلی کے ساتھ مل کر احتیاط سے کھیلنا شروع کیا اور سات اوور کے آخر تک انڈیا کا سکور 33 تک لے گئے۔

نیوزی لینڈ کا آغاز اچھا نہیں رہا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننیوزی لینڈ کا آغاز اچھا نہیں رہا

سوڈھی نواں اوور کرنے آئے اور ایک سپن ہوتی بال پر انھوں نے کوہلی کو وکٹ کے پیچھے کیچ کروا دیا۔

کوہلی کی وکٹ گرنے سے انڈیا شدید دباؤ کا شکار ہو گیا۔ کوہلی نے 27 گیندوں پر 23 رن بنائے۔

اس کے بعد ہاردِک پانڈیا آئے لیکن وہ بھی جلد ہی ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

روندر جڈیجا بھی کچھ نہ کر پائے اور کوئی رن بنائے بغیر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ان کی وکٹ بھی سوڈھی نے لی۔

روی چندرن ایشون کی وکٹ بھی سوڈھی نے لی اور انھیں سٹمپ کروایا۔ ایشون 20 گیندوں پر صرف دس رن بنا سکے۔

دھونی سینٹنر کی ایک گیند پر باؤنڈری لائن کے قریب کیچ آؤٹ ہوئے تو بھارت کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن یہ فیصلہ ابتدا میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔

نیوزی لینڈ نے جارحانہ انداز اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن گیند پچ پر رک کر آ رہی تھی اور شاٹ کھیلنے میں بلے بازوں کو مشکل پیش آ رہی تھی۔

ایشون کی اور میچ کی پہلی گیند پر چھکا لگانے کے بعد مارٹن گپٹل دوسری گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے۔ ری پلے میں گیند وکٹ سے تھوڑا اوپر جاتی نظر آئی لیکن سری لنکن امپائر دھرما سینا نے گپٹل کو آؤٹ دے دیا۔

انڈیا کے تمام بولروں نے نپی تلی بالنگ کی۔ ایم ایس دھونی کے ہاتھ کا انگوٹھا زخمی تھا لیکن پھر بھی انھوں نے اننگز کے دوران ایک سٹمپ آؤٹ کیا۔

کھیل کے شروع ہونے سے پہلے نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹ کپتان مارٹن کرو ان کو جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔

ٹی 20 کرکٹ میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے باہمی مقابلوں پر نظر دوڑائی جائے تو ایک یکطرفہ صورتحال سامنے آتی ہے۔

بھارت اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں اس میچ سے قبل ماضی میں چار مرتبہ ٹی 20 میچوں میں مدِمقابل آئی تھیں اور ان تمام میچوں میں بھی فتح نیوزی لینڈ کے حصے میں ہی آئی۔

تاہم ان میں سے صرف ایک میچ ہی بھارتی سرزمین پر کھیلا گیا تھا اور چنئی میں سنہ 2012 میں کھیلے گئے اس میچ میں نیوزی لینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک رن سے فتح حاصل کی تھی۔

بھارتی ٹیم اس وقت آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں سرِفہرست ہے اور حال ہی میں اس کے بلے بازوں اور نوجوان بولروں کی کارکردگی عمدہ رہی ہے۔

نیوزی لینڈ اس عالمی ٹورنامنٹ سے قبل عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر ہے لیکن ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی اسے ٹاپ تھری ٹیموں میں جگہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔