کیا ٹی20 سے ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کو خطرہ ہے؟

کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ میں جن چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے وہ ٹی 20 یا 50 اوور کے فارمیٹ میں نہیں ہو سکتا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ میں جن چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے وہ ٹی 20 یا 50 اوور کے فارمیٹ میں نہیں ہو سکتا
    • مصنف, بوریا مجمدر
    • عہدہ, بھارتی صحافی، کولکتہ

مجھے وہ دن یاد ہے جب میں جون 2003 میں انگلینڈ میں مقامی ٹیموں ہیمپشائر ہاکس اور سسکس شارک کے مابین ایک میچ دیکھ رہا تھا۔

یہ دنیا کا اولین ٹی 20 میچ تھا۔ لوگوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ ’یہ کرکٹ نہیں ہے، کرکٹ اور تفریح کا مرکب ہے۔‘

یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ اب ہر چیزکا تعین مارکیٹ کرتی ہے۔ ہم مارکیٹ سے منھ نہیں موڑ سکتے، جو کچھ بھی لوگوں کی پسند ہے، آپ کو انھیں وہ مہیا کرنا ہوگا۔

آپ اس امر کی تردید نہیں کرسکتے کہ اب ٹی 20 کا ’دور‘ ہے۔

بہت ساری ٹی 20 لیگز کھیلی جا رہی ہیں، لوگ دیکھتے ہیں اور یقیناً کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ اس سے آنکھیں پھیر لیں۔ یہ بلاشبہ کرکٹ کی ایک قسم ہے۔ مزید یہ کہ کرکٹ کے کھیل نے ٹی 20 فارمیٹ سے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔

اب دیکھیں کہ کھلاڑی کس طرح کی فیلڈنگ کرتے ہیں۔ کیا آپ نے اس قسم کی جارحانہ فیلڈنگ ٹیسٹ یا 50 اووروں کے میچ میں دیکھی ہے؟ مجھے یقین ہے کہ نہیں دیکھی ہو گی۔

بہت ساری نئی شاٹس دریافت کر لی گئی ہیں، وکٹ کیپر کے سر کے اوپر سے سلوگ سویپ، باؤنڈری سے باہر جاتی ہوئی ریورس سویپ۔ یہ تمام ٹی 20 کا کھیل کا حصہ ہیں۔

بولر بھی اب سلو بال اور راؤنڈ دی وکٹ بال کرواتے ہیں۔ یہ بھی ٹی 20 کی دین ہیں۔

 میلبرن میں باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ کو دیکھنے کے لیے اوسطاً 70 سے 80 ہزار لوگ میدان میں آیا کرتے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن میلبرن میں باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ کو دیکھنے کے لیے اوسطاً 70 سے 80 ہزار لوگ میدان میں آیا کرتے تھے

کیا ٹی 20 کرکٹ ٹیسٹ یا ون ڈے کرکٹ کو کوئی نقصان پہنچا رہی ہے؟

آسٹریلیا میں ایک روایت ہے۔ میلبرن میں باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں شائقین کے آنے کی ایک تاریخ ہے۔ اوسطاً 70 سے 80 ہزار افراد مشہور میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں آیا کرتے تھے۔ لیکن گذشتہ سال صرف 30 سے 40 ہزار افراد گراؤنڈ میں آئے۔

اسی دوران اوسطا 40، 50 ہزار افرد بگ بیش لیگ کے میچ دیکھنے کے لیے آئے۔

یہ ٹی 20 کی مقبولیت ظاہر کرتی ہے۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ ٹی 20 سے بہت کچھ حاصل بھی کر سکتی ہے۔

ٹینس میں ومبلڈن کا شمار سب سے بڑے گرینڈ سلیم مقابلوں میں ہوتا ہے، اسی طرح ٹیسٹ کرکٹ کرکٹ کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔

کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ میں جن چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے وہ ٹی 20 یا 50 اووروں کے فارمیٹ میں نہیں ہو سکتا۔

چنانچہ ٹیسٹ کرکٹ قائم رہے گی۔ اس کے بجائے ہمیں 50 اووروں کی کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

ملٹی نیشنل 50 اوور ٹورنامنٹ یقیناً جاری رہیں گے لیکن میرے خیال میں دو ملکی سیریز میں 50 اوور کی کرکٹ زیادہ دیر نہیں رہ سکتی۔ ٹی 20 اس پر حاوی ہو سکتی ہے۔

آپ محدود صلاحیتوں کے ساتھ ٹی 20 بہت اچھا کھیل سکتے ہیں لیکن طویل ٹیسٹ میچوں میں آپ ایسا نہیں کر سکتے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآپ محدود صلاحیتوں کے ساتھ ٹی 20 بہت اچھا کھیل سکتے ہیں لیکن طویل ٹیسٹ میچوں میں آپ ایسا نہیں کر سکتے

چنانچہ ٹی 20 ٹورنامنٹوں اور فرنچائز کی بنیاد پر لیگز ہی مستقبل ہیں۔

مارکیٹ، سپانسر، شائقین، تمام سٹیک ہولڈرز اسی فارمیٹ کی حمایت کر رہے ہیں، چنانچہ یہی مستقبل ہے۔

ٹی 20 میں کشش ہے۔ لوگوں کو تفریح اور کرکٹ ایک ساتھ ملتی ہے۔ وہ میدان میں صرف تین گھنٹوں کے لیے جاتے ہیں۔ یہ اپنے خاندان کے ساتھ شام گزارنے جیسا بن جاتا ہے اور اسی دوران آپ کرکٹ دیکھتے ہیں۔

مچل کلارک نے حال ہی میں مجھے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ٹی 20 نے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں بہتری کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔

لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے آپ کو جس مہارت کی ضرورت ہے وہ ٹی 20 سے کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ ایک اچھا ٹیسٹ کرکٹر ٹی 20 بہت اچھا کھیل سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک اچھا ٹی 20 کرکٹر بھی اچھا ٹیسٹ کرکٹر بن سکتا ہے۔

آپ محدود صلاحیتوں کے ساتھ ٹی 20 بہت اچھا کھیل سکتے ہیں لیکن طویل ٹیسٹ میچوں میں آپ ایسا نہیں کر سکتے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں آپ کو کئی طرح کی مہارت درکار ہوتی ہے۔ میرے خیال سے ٹیسٹ کرکٹ اب بھی بڑا چیلنج ہے۔