ٹی 20 میں پاکستان کا اتارچڑھاؤ

شاہد آفریدی کی حالیہ کارکردگی سے ان کا تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی کی حالیہ کارکردگی سے ان کا تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ٹی 20 انٹرنیشنل میں پاکستان کا شمار جوشیلی اور حریفوں کو چونکادینے والی ٹیم کے طور پر ہوتا ہے لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ اس ٹیم کی کارکردگی کا گراف بتدریج گرتا چلا گیا ہے؟

اگرچہ پاکستان کو اب بھی ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ 59 میچ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے لیکن حالیہ دنوں میں شکست کی رفتار میں بھی تیزی آنے کے سبب پاکستانی ٹیم ٹی 20 انٹرنیشنل میچ ہارنے کے معاملے میں بھی اب سب سے آگے نکل چکی ہے اور اس کے ہارے ہوئے میچوں کی تعداد 40 ہو چکی ہے۔

2006 میں ٹی 20 انٹرنیشنل کےآغاز کے بعد سے پاکستانی ٹیم نے 2009 تک 27 میں سے 21 میچ جیت رکھے تھے۔ اس دوران اس نے پہلے ورلڈ ٹی 20 کا فائنل کھیلا اور دوسرے ورلڈ ٹی 20 کی فاتح بن کر سامنے آئی لیکن 2010 وہ پہلا سال تھا جب پاکستانی ٹیم کے جیتے ہوئے میچوں کی تعداد ہارے ہوئے میچوں سے کم تھی۔

2010 میں پاکستانی ٹیم کو 18 میں سے 12 میچوں میں شکست ہوئی تھی اور وہ صرف چھ میچ جیت پائی تھی ۔

2011 سے 2013 تک پاکستانی ٹیم پھر فتوحات سمیٹتے ہوئے نظر آئی اور اس نے ان تین برسوں میں 33 میں سے 20 میچوں میں کامیابی حاصل کی لیکن 2014 میں ایک بار پھر اس کے جیتے ہوئے میچوں کی تعداد ہارے ہوئے میچوں سے کم تھی۔ ستم بالائے ستم پاکستانی ٹیم پہلی مرتبہ آئی سی سی ورلڈ 20 کے سیمی فائنل تک بھی نہ پہنچ سکی۔

گذشتہ سال پاکستانی ٹیم نے دس میں سے چھ میچوں میں کامیابی حاصل کی لیکن اس سال ورلڈ ٹی 20 میں جانے سے پہلے تک وہ سات میں سے صرف تین میچ جیت پائی ہے۔

پاکستانی ٹیم کی ٹی 20 انٹرنیشنل میں غیر مستقل کارکردگی کی ایک بڑی وجہ ان کھلاڑیوں کا پردے سے غائب ہوجانا یا فارم میں نہ ہونا بھی ہے جو ماضی میں اس کی جیت میں کلیدی کردار رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستانی ٹیم کو ٹی 20 کی بھرپور قوت ثابت کرنے میں اس کے بولرز شاہد آفریدی عمرگل اور سعید اجمل پیش پیش رہے ہیں۔

آج بھی ٹی 20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولروں میں شاہد آفریدی (93 وکٹیں) سعید اجمل (85 وکٹیں) اور عمرگل (85 وکٹیں) پہلی تین پوزیشنوں پر موجود ہیں لیکن سعید اجمل کا کریئر مشکوک بولنگ ایکشن کی بھینٹ چڑھ گیا جبکہ عمرگل فٹنس اور شاہد آفریدی اپنی فارم سے نبرد آزما ہیں۔

شاہد آفریدی نے اپنی وکٹوں کی نصف سنچری 42 میچوں میں مکمل کی تھی لیکن اگلے 52 میچوں میں وہ صرف 43 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

شاہد آفریدی نے اب تک تمام پانچوں ورلڈ ٹی 20 ایونٹس میں حصہ لیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہر ورلڈ ٹی 20 میں ان کی بولنگ کی کارکردگی میں فرق آتا گیا ہے۔

شاہد آفریدی نے پہلے ورلڈ ٹی 20 میں 12 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ دو سال بعد پاکستانی ٹیم کو فاتح بنانے میں ان کی سیمی فائنل اور فائنل میں نصف سنچریوں کے علاوہ ٹورنامنٹ میں 11 وکٹوں کا عمل دخل بھی نمایاں تھا۔

لیکن اس کے بعد انہوں نے جو تین ورلڈ ٹی 20 ایونٹس کھیلے ہیں ان میں ہر ٹورنامنٹ میں ان کی چار چار وکٹوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گراف کتنا نیچے آیا ہے۔

بیٹنگ پاکستانی ٹیم کا ہر دور میں مسئلہ رہی ہے۔ ٹی 20 میں بھی تجربہ کار بیٹسمین محمد حفیظ، احمد شہزاد، عمراکمل اور شعیب ملک کی غیرمستقل مزاج کارکردگی کا اثر ٹیم پر پڑا ہے۔

کارکردگی میں اتارچڑھاؤ کی ایک اور وجہ سلیکٹروں کی جانب سے ایک کے بعد ایک کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا اور اسے مناسب وقت دیے بغیر گھر کا راستہ دکھایا جانا ہے۔

صرف 15 ماہ کے قلیل عرصے میں سلیکٹروں نے دس کرکٹروں کو ٹی 20 کیپس دیں جن میں سعد نسیم، محمد رضوان، مختار احمد، عماد وسیم، نعمان انور، عمران خان جونیئر، رفعت اللہ مہمند، عامریامین، خرم منظور، محمد نواز اور افتخار احمد شامل ہیں۔

مختار احمد چھ میچوں میں دو نصف سنچریوں اور 143 کا سٹرائیک ریٹ ہونے کے باوجود ٹیم سے باہر کیوں ہیں؟ اس کا معقول جواب چیف سلیکٹر ہارون رشید ہی دے سکتے ہیں۔

افتخار احمد قومی ٹی 20 ٹورنامنٹ کے بہترین بیٹسمین قرار پانے کے بعد پاکستانی ٹی 20 ٹیم میں شامل ہوئے، لیکن حیدرآباد اسکینڈل سے کلیئر ہونے کے فوراً بعد عمراکمل کو امارات روانہ کر کے افتخار احمد کو وطن واپس بھیج دیا گیا اوراب ایشیا کپ کے صرف ایک میچ کے بعد وہ دوبارہ ٹیم سے باہر کر دیے گئے۔

ایک اور دلچسپ مثال بلال آصف کی ہے جو زمبابوے کے دورے میں ٹی 20 کے لیے منتخب کیے گئے تھے لیکن وہ تین ون ڈے انٹرنیشنل تو کھیل گئے لیکن ابھی تک ٹی 20 میں پہلا موقع ملنے کے منتظر ہیں۔