تبدیلیاں ہوں گی مگر کپتان نہیں بدلےگا: شہریار

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اس ماہ بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 مقابلوں کے سکواڈ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تاہم بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے فوری طور پر شاہد آفریدی کو ٹیم کی کپتانی سے ہٹائے جانے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔
پاکستانی ٹیم گذشتہ شب بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کے بعد ایشیا کپ سے باہر ہوگئی تھی اور اس ہار کے بعد سے جہاں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو زبردست تنقید کا سامنا ہے وہیں ٹیم اور منیجمنٹ میں تبدیلیوں کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
پی سی بی کے چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ انھیں ٹیم کی اس طرح کی کارکردگی سے بہت دکھ پہنچا ہے۔
شہریارخان کا کہنا ہے کہ ابھی وقت ہے کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم میں ضروری ردوبدل کیا جائے اور اس سلسلے میں تبدیلیاں ہوں گی تاہم فوری طور پر وہ شاہد آفریدی کو کپتانی سے ہٹانے کے حق میں نہیں کیونکہ ’یہ ایک بڑے کھلاڑی کی توہین ہوگی۔‘
انھوں نے کہا کہ شاہد آفریدی کی کارکردگی پر کافی دنوں سے تنقید ہو رہی ہے اور ان کی کپتانی میں جو خامی ہے وہ اس وقت دور نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ اپنے کریئر کے آخری دنوں میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شہریارخان نے کہا کہ شاہد آفریدی نے ان سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک کپتانی کرتے رہنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر انھیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
پی سی بی کے چیئرمین نے کہا کہ چونکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم میں تبدیلی کے لیے سلیکشن کمیٹی کی ضرورت پڑے گی لہذا فوری طور پر سلیکشن کمیٹی کو فارغ کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔
شہریارخان نے کہا کہ وہ ٹیم کے انتخاب میں کبھی بھی مداخلت نہیں کرتے اور اگر کسی سلیکشن پر انھیں اعتراض ہوتا ہے تو وہ سلیکشن کمیٹی سے بات کرتے ہیں۔
ان کے مطابق اس بار بھی انھیں ایک دو ناموں پر تحفظات تھے اور انھوں نے منتخب کردہ ٹیم سلیکشن کمیٹی کو واپس بھیجی لیکن چیف سلیکٹر نے انھیں یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ یہ ٹیم کپتان اور کوچ کی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر منتخب کی گئی ہے لہٰذا اانھوں نے ٹیم کی منظوری دے دی۔
شہریار خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی بہتری کے لیے جو بھی فیصلے کیے جائیں گے وہ ایماندارانہ ہونگے اور کسی کو بھی قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا۔
اانھوں نے کہا کہ اظہر محمود کو دو ایونٹس کے لیے بولنگ کوچ مقرر کرنے کا فیصلہ مثبت سوچ کے ساتھ کیا گیا تھا لیکن یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکا۔



