نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر مارٹن کرو چل بسے

،تصویر کا ذریعہGetty
عالمی شہرت کے حامل نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، مصنف اور براڈکاسٹر مارٹن کرو جمعرات کو آکلینڈ میں 53 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
مارٹن کرو سنہ 2012 سے کینسر میں مبتلا تھے اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں انھوں نے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
ان کی وفات کے بعد ان کی خاندان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ وہ بہت غمزدہ دلوں کے ساتھ کہتے ہیں کہ مارٹن کرو کے دنیا سے گزر گئے ہیں۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ بڑے پرسکون انداز سے اپنے خاندان والوں کے درمیان دنیا سے چلے گئے۔
مارٹن کرو جنھوں نے نیوزی لینڈ کی تاریخ میں ایک بہترین بلے باز کے طور پر اپنا لوہا دنیا سے منوایا، انھوں نے 19 برس کی عمر میں سنہ 1982 میں اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ دنیا بھر میں وہ اپنی تکنیک اور بلے بازی میں مہارت کے طور پر جانے جاتے تھے اور کرکٹ کی دنیا میں لوگ ان کی تکینک کے معترف تھے۔
انھوں نے اپنے کرکٹ کے کیریئر کے دوران 17 سنچریاں بنائیں جن میں ولنگٹن کے میدان ’بیسن ریزور‘ میں 299 رنز کی ریکارڈ ساز اننگز بھی شامل تھی۔ ان کا یہ ریکارڈ اسی گروانڈو پر بریڈن میکلم نے توڑا۔
ان کی کرکٹ کی زندگی کے سب سے یاد گار دن سنہ 1992 کے ورلڈ کپ کے دوران تھے جب وہ صرف اور صرف اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر نیوزی لینڈ کی ٹیم جس کے بارے میں کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کوئی قابل قدر کارکردگی دکھائے گی سیمی فائنل تک لے جانے میں کامیاب ہوئے۔
سیمی فائنل میں ان کی ٹیم پاکستان کے ہاتھوں شکست کھا گئی۔
نیوزی لینڈ کے کپتان کی حکمت عملی نے سب کو حیران کر دیا اور سب سے زیادہ میزبان آسٹریلیا کو جو ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں ہی مارٹن کرو کے داؤ پیچ کے آگے بے بس نظر آئے۔
اس کے بعد گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے وہ زیادہ دیر نہ کھیل سکے اور سنہ 1995 میں 33 برس کی عمر میں کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی انھوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری اور کرکٹ کی دنیا میں مثبت انداز سے اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
انھوں نے کرکٹ کے مبصر کی حیثیت سے اپنا کیریئر شروع کیا اور کرکٹ کے کھیل میں جدت لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ نیوزی لینڈ میں ’کرکٹ میکس‘ شروع کرنے والوں میں شامل تھے جو کہ بعد میں جا کر ٹی ٹوئنٹی کی شکل اختیار کر گئی۔
نیوزی لینڈ کے معروف کرکٹر نے 77 ٹیسٹ اور 143 ایک روزہ میچوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کی۔
انھوں نے ٹیسٹ میچوں میں 45.36 کی اوسط سے 5,444 رنز بنائے۔



