کرکٹ کے بعد اب ہاکی سپر لیگ کرانے کی تیاریاں

شہباز احمد کو ہاکی میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی مل چکا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنشہباز احمد کو ہاکی میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی مل چکا ہے
    • مصنف, عبداللہ فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری اور سابق اولمپیئن شہباز احمد کا کہنا ہے کہ ہاکی فیڈریشن رواں سال کے آخر میں ہاکی سپر لیگ کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہباز احمد کا کہنا تھا کہ اِس سلسلے میں منصوبہ بندی کافی حد تک مکمل ہو چکی ہے اور اِس کا باقائدہ اعلان مارچ میں ایک بریفنگ میں کیا جائے گا۔

شہباز احمد کا کہنا ہے کہ اس بریفینگ میں فیڈریشن کا آئندہ کا لائحہ عمل بھی پیش کیا جائےگا۔

سابق اولمپیئن نے بتایا کہ ’لیگ کرانے کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی کھلاڑی ملک سے باہر جا کر لیگ کھیلنا چاہتے ہیں وہ لیگ کے فوائد ملک میں رہتے ہوئے حاصل کریں اور اِس کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے لیے ہر وقت تیار اور دستیاب ہوں۔‘

کسی بھی سپر لیگ کے لیے تو کافی سرمایہ درکار ہوتا ہے وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کہاں سے لائے گی؟

اِس سوال کے جواب میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری نے کہا کہ وہ خود بحیثیت ایک سابق کھلاڑی اور حلالِ امتیاز کے حامل شخص چیلینجز کا سامنا کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ ہاکی سپر لیگ کے لیے کرکٹ سپر لیگ کی طرز پر منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اشتہارات دیے اور سپانسرز تلاش کیے جائیں گے جو ٹیموں کو خریدیں گے۔‘

شہباز احمد کا کہنا ہے کہ ہاکی سپر لیگ کے لیے کرکٹ سپر لیگ کی طرز پر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہPSL

،تصویر کا کیپشنشہباز احمد کا کہنا ہے کہ ہاکی سپر لیگ کے لیے کرکٹ سپر لیگ کی طرز پر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے

اِس مجوزہ پاکستان ہاکی سپر لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کیے جانےکے سوال پر شہباز احمد نے کہا کہ ’جب بھی غیر ملکی کھلاڑی بلائے جاتے ہیں تو اُس میں اُن کی صرف فیڈریشن ہی نہیں بلکہ وزارتِ خارجہ کی اجازت کا بھی تعلق ہوتا ہے۔ ہماری کوشش اور خواہش تو یہی ہے کہ ہالینڈ، جرمنی اور دیگر ممالک کے کھلاڑی آئیں لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر کوشش ہوگی کہ ملائیشیا، چین یا پھر بھارتی کھلاڑی بمع این او سی ہی شامل کیے جائیں۔‘

شہباز احمد سے جب یہ پوچھا گیا کہ اِس کے باوجود کہ بھارت اپنی سپر لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو نہیں شامل کرتا، کیا پھر بھی پاکستانی سپر لیگ میں بھارتی کھلاڑیوں کو بُلایا جائےگا تو ان کا کہنا تھا کہ اُنھیں ہاکی کے ذریعے امن کا پیغام دینا ہے اور پاکستان نے صرف کھیل ہی نہیں بلکہ کسی بھی فیلڈ میں بھارتی شہریوں کو ویزا دینے سے انکار نہیں کیا ہے۔

اُن کے مطابق مجوزہ ہاکی سپر لیگ میں ٹیموں اور کھلاڑیوں کی آکشن سال کی آخری سہ ماہی میں ہوگی جب تک یہ بھی طے ہوجائےگا کہ غیر ملکی کھلاڑی آ رہے ہیں یا نہیں اور کوشش ہوگی کہ پہلی سپر لیگ پاکستان میں ہی منعقد کرائی جائے۔