انڈر 19 ورلڈ کپ سے قبل کھلاڑیوں کو ’نیک تمناؤں‘ کا پیغام

کپل دیو

،تصویر کا ذریعہGetty Allsport

،تصویر کا کیپشنکپل دیو سنہ 1983 میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی انڈیا کی قومی ٹیم کے کپتان تھے

انڈیا کے معروف سابق آل راؤنڈر کپل دیو اور مختلف ٹیموں کے کوچز نے بنگلہ دیش میں ہونے والے انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کھلاڑیوں کو ’نیک تمناؤں‘ کے پیغامات بھجوائے ہیں۔

انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ بدھ سے بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ میں 16 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں ٹیسٹ کھیلنے والے نو ممالک کے علاوہ سات دیگر ٹیمیں بھی شریک ہیں جن میں افغانستان، کینیڈا، فیجی، نمیبیا، نیپال، آئیرلینڈ اور سکاٹ لینڈ شامل ہیں۔

ٹورنامنٹ کے پہلے دن دفاعی چیمپیئن جنوبی افریقہ کا مقابلہ میزبان ٹیم بنگلہ دیش سے ہوگا۔ جبکہ سنہ 1998 میں یہ ٹورنامنٹ جیتنے والی ٹیم انگلینڈ کا مقابلہ فیجی سے ہوگا۔ انڈیا کے سابق کرکٹر کپل دیو نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے تمام کھلاڑیوں کے لیے میری نیک تمنائیں ہیں۔ وہ اپنی تقدیر خود لکھ سکتے ہیں۔‘

کپل دیو سنہ 1983 میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی انڈیا کی قومی ٹیم کے کپتان تھے۔

’کئی ٹیسٹ اور ون ڈے کھیلنے والی ٹیمیں تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہیں اور آئی سی سی کا انڈر 19 ورلڈ کپ ان کو ان نوجوان کھلاڑیوں کو پرکھنے کا موقع دے گا۔‘

کپل دیو نے 131 ٹیسٹ میچوں میں 434 وکٹیں اور 225 ایک روزہ میچوں میں 253 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

کپل دیو نے ہاشم آملہ، وراٹ کوہلی، سٹیون سمتھ، کین ولیئمسن اور جو روٹ جیسے کھلاڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ انڈر 19 کا ورلڈ کپ کھیل کر آگے آئے ہیں۔

’یہ سب کھلاڑی آج نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک مثال ہیں۔‘ عظیم فاسٹ بالر اور پاکستانی ٹیم کے کوچ وقار یونس نے اپنے پیغام میں کہا کہ کھلاڑیوں کو اس ٹورنامنٹ سے لطف اٹھانا چاہیے اور اپنے ممالک کے لیے بطور سفیر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ’آئی سی سی کا انڈر 19 ورلڈ کپ نوجوانوں کے لیے دنیا کو اپنا ہنر دکھانے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔

’ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے تمام کھلاڑیوں کے لیے میری نیک تمنائیں ہیں اور میں ان کو، خاص طور پر پاکستانی ٹیم کو یہ مشورہ دوں گا کہ ’خوب محنت کریں، ٹورنامنٹ جس طرح کے مواقعے آپ کو دیتا ہے اس سے خوب لطف اٹھائیں۔ ’یاد رکھیں کہ آپ اپنے ملک کے سفیر ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ آپ میدان میں اور میدان سے باہر اپنی کارکردگی پر فخر کر سکیں۔‘

پیر کو وارم اپ میچز کے آخری دن انڈیا کی ٹیم نے پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی تھی۔

پاکستان کی ٹیم 44.1 اوورز میں 197 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ انڈیا کی ٹیم نے 34ویں اوور میں یہ ہدف حاصل کر لیا تھا۔

انڈیا کے لیفٹ آرم فاسٹ بالر خلیل احمد نے 30 رنز دے کر پاکستان کی پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ ایک موقع پر پاکستان کی ٹیم 75 کے مجموعی سکور پر مستحکم پوزیش میں نظر آرہی تھی لیکن اس کی نو وکٹیں مزید صرف 122 رنز کا اضافہ کر سکیں۔

انڈیا کی جانب سے سرفراز خان نے 68 گیندوں پر 81 رنز کی عمدہ اننگز کے ذریعے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

سری لنکا کے سابق ٹیسٹ کھلاڑی چندیکا ہتھروسنگے بنگلہ دیش کی ٹیم کے کوچ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں آج بھی یاد ہے جب سنہ 1988 میں انڈر 19 کا پہلا ورلڈ کپ کھیلا گیا تھا۔ ’1988 کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ اس ورلڈ کپ سے کئی عظیم کھلاڑی نکل کر سامنے آئے تھے جن میں برائن لارا، انضمام الحق اور سنتھ جےسوریا جیسے کھلاڑی شامل تھے۔‘