ٹوکیو اولمپکس کےلیے نئے سٹیڈیم کا سستا ڈیزائن

،تصویر کا ذریعہJapan Sport Council
جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں 2020 کے اولمپکس کے انعقاد کے لیے ایک نئے اور نسبتاً چھوٹے سٹیڈیم کے ڈیزائن کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔
سٹیڈیم کی تعمیر کی ابتدائی ذمہ داری مشہور ماہر تعمیر زہا حدید کو دی گئی تھی لیکن حدید کے انتہائی جدید طرز کے ڈیزائن پر آنے والی بھاری لاگت کے باعث ان کی خدمات حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جاپان کے ماہر تعمیرات کینگو کوما کے بنائے اس نئے ڈیزائن پر 149 ارب ین کی لاگت آئے گی جبکہ زہا حدید کے ڈیزائن پر آنے والی لاگت 252 ارب ین تک جا سکتی تھی۔ اگر یہ ڈیزائن منظور ہو جاتا تو یہ سٹیڈیم کھیلوں کے مقابلوں کے لیے دنیا کی مہنگی ترین جگہ کا درجہ حاصل کر لیتا۔
سٹیڈیم کے ڈیزائن کا منصوبہ زہا حدید سے واپس لیے جانے پر جاپان میں اعلیٰ سطح پر شدید بحث و مباحثہ ہوا جو اس سال اکتوبر میں جاپان کے وزیر تعلیم کھیل ہاکوبون شمومورا کے استعفے پر ختم ہوا۔
کینگو کوما کا تجویز کردہ ڈیزائن جاپانی مندر سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں سٹیل اور لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے اور جو تمام اطراف سے درختوں میں گھرا ہوا ہے۔
جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے سٹیڈیم کے ڈیزائن کا حتمی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ایک زبردست منصوبہ ہے، جس میں سٹیڈیم کی تعمیر کے بنیادی اصولوں سے لے کر تعمیر کے دورانیے اور لاگت تک تمام چیزوں کا خیال رکھا گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہJapan Sport Council
چاپان کی تعمیراتی کمپنی تائیسی کارپوریشن اس نئے ڈیزائن کی تعمیر میں رہنمائی کرے گی۔
سٹیڈیم کی تعمیر کے اس منصوبے کے لیے ماہر تعمیرات ٹویو ایٹو نے بھی ڈیزائن پیش کیا تھا لیکن کینگو کوما کے ڈیزائن کو سب پر ترجیح دی گئی۔
ٹویوایٹو کا ڈیزائن بھی زہا حدید کے ڈیزائن کے مقابلے میں نسبتاً سادہ تھا۔ حدید کا ڈیزائن ایک بڑی بائیسکل اور ہیلمٹ یا ایک خلائی جہاز سے مشابہت رکھتا ہے، جس کی تعمیر کے لیے زمین کا ایک بڑا رقبہ درکار ہوتا۔
منظور ہونے والا نیا ڈیزائن اپنے رنگوں کی وجہ سے بھی جاذب نظر دکھائی دیتا ہے، جس کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جیسے بہت سارے پین کیک اوپر تلے رکھ دیے گئے ہوں۔
سٹیڈیم میں 68 ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے، اور اگر اس کو کبھی ورلڈ کپ فٹبال فائنل کے مقابلے کے لیے استعمال کیا گیا تو اس میں 80 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش بھی نکالی جا سکتی ہے۔



