نیوزی لینڈ کے 624 رنز کے جواب میں آسٹریلیا نے 258 بنا لیے

،تصویر کا ذریعہGetty
پرتھ میں کھیلے جانے والے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کھیل کے اختتام پر آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 258 رنز بنائے تھے۔
اس طرح آسٹریلیا کو اپنی دوسری اننگز میں 193 رنز کی مجموعی برتری حاصل ہو گئی ہے اور اس کی آٹھ وکٹیں ابھی باقی ہیں۔
پیر کو جب میچ کے چوتھے دن کے کھیل کا اختتام ہوا تو ایڈم ووجز 101 اور سٹیون سمتھ 131 رنز پر کھیل رہے تھے۔
<link type="page"><caption> میچ کا تازہ سکور جاننے کے لیے کلک کریں</caption><url href="http://www.bbc.com/sport/cricket/scorecard/ECKP90187" platform="highweb"/></link>
اس سے قبل نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 624 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے راس ٹیلر 290 اور کین ولیمسن 166 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ راس ٹیلر اس شاندار ڈبل سنچری کے ساتھ ہی آسٹریلیا میں سب سے زیادہ رنز کی اننگز کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑی بن گئے ہیں۔
یہ ریکارڈ اس سے قبل فوسٹر کے نام تھا جنھوں نے 287 رنز بنائے تھے۔ راس ٹیلر نے نہ صرف اس دوران ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا بہترین سکور بنایا بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ ہزار رن بھی مکمل کیے۔
نیوزی لینڈ نے دو وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز سے اننگز دوبارہ شروع کی تو کین ولیمسن نے ٹیلر کے ساتھ مل کر تیسری وکٹ کے لیے 265 رنز کی شراکت قائم کر ڈالی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اپنے ساتھی کے جانے کے باوجود ٹیلر نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور چوتھی وکٹ کے لیے برینڈن میکلم کے ساتھ مزید 80 رنز کا اضافہ کیا۔
تیسرے دن کے کھیل کی ایک اہم بات آسٹریلوی بولر مچل سٹارک کی تیز بولنگ بھی رہی۔
ان کے 21 ویں اوور کی چوتھی گیند کی رفتار سپیڈ ریڈار پر 160.4 کلومیٹر فی گھنٹہ یا 99.67 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔
اگر یہ اعدادوشمار تجزیے کے بعد برقرار رہے تو یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پھینکی جانے والی تیز ترین گیند ہوگی۔
کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین گیند پھینکنے کا اعزاز پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے پاس ہے جنھوں نے 2003 میں انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ کرکٹ میچ میں 161.3 کلومیٹر کی رفتار سے گیند کی تھی۔



