یونس خان کا غلط وقت پر درست فیصلہ

ماضی میں ہم متعدد بار انھیں جذباتی انداز میں چونکا دینے والے فیصلے کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنماضی میں ہم متعدد بار انھیں جذباتی انداز میں چونکا دینے والے فیصلے کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, کراچی

یونس خان نے بالآخر ون ڈے انٹرنیشنل کو خیرباد کہہ دیا اور وہ یہی چاہتے تھے کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ خود کرکے رخصت ہوں۔

لیکن کیا اس فیصلے کے لیے انھوں نے غلط وقت کا انتخاب نہیں کیا؟

یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یونس خان کی ون ڈے ٹیم میں شمولیت متفقہ نہیں تھی۔

ایک جانب سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین ہارون رشید ان کی ٹیسٹ کرکٹ کی موجودہ شاندار فارم کی بنیاد پر انھیں ون ڈے ٹیم میں شامل کرنے پر مصر تھے تو دوسری جانب کوچ وقار یونس کی سوچ یہ تھی کہ چونکہ یونس خان کا ون ڈے کریئر آئندہ ورلڈ کپ یا چیمپئنز ٹرافی تک طول نہیں پکڑنے والا لہٰذا ان کی جگہ کسی نوجوان کرکٹر کو مستقبل کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔

یونس خان کی ون ڈے میں شمولیت سے کپتان اور کوچ مطمئن نہیں تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیونس خان کی ون ڈے میں شمولیت سے کپتان اور کوچ مطمئن نہیں تھے

اس بحث تکرار میں اگرچہ یونس خان ون ڈے ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب تو ہوگئے لیکن انھیں بھی اندازہ تھا کہ اپنے ون ڈے مستقبل کے بارے میں انھیں جلد از جلد کسی فیصلے پر پہنچنا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یونس خان اس وقت ٹیسٹ کرکٹ میں زبردست فارم میں ہیں اور ان کے بغیر پاکستانی بیٹنگ لائن کا تصور ممکن نہیں لیکن حالیہ برسوں میں ان کی ون ڈے میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ اگر یہ اتنی خراب نہ ہوتی تو ان کی ون ڈے ٹیم میں شمولیت اتنی مشکل بھی نہ ہوتی۔

یونس خان اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہائی محب وطن اور ’ٹیم مین ‘ ہیں جنھوں نے اپنے تمام کریئر میں ٹیم اور ملک کو مقدم جانا ہے۔ انھوں نے اپنی تمام تر کرکٹ پوری دیانت داری کے ساتھ کھیلی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ انتہائی جذباتی اور کسی بھی وقت کوئی بھی غیرمتوقع فیصلہ کرنے والے کھلاڑی کے طور پر بھی مشہور ہیں۔

ماضی میں ہم متعدد بار انھیں جذباتی انداز میں چونکا دینے والے فیصلے کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔

ایک بار انھوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت صرف اس وجہ سے چھوڑی کیونکہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان سے ملاقات کے لیے کچھ دیر انتظار کے لیے کہا گیا۔

یونس خان نے ٹیم کی قیادت ایک بار پھر اس وقت چھوڑی جب ایک رکن قومی اسمبلی نے ان پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا حالانکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین اعجاز بٹ نے قائمہ کمیٹی کے سامنے یونس خان کی زبردست حمایت کی لیکن اجلاس کے بعد یونس خان نے ان کی کار رکوائی اور استعفے کا لفافہ ان کے حوالے کرکے انھیں ہکا بکا کر دیا۔

یہ بات بھی زیادہ پرانی نہیں جب ون ڈے ٹیم میں ان کی شمولیت پر بحث جاری تھی تو انہوں نے میڈیا کے سامنے آ کر انتہائی جذباتی بیان دے دیا ’ کیا ہمارے جیسے کرکٹر اپنے آپ کو گولی مار لیں۔‘

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے سب سے کامیاب بلے باز ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے سب سے کامیاب بلے باز ہیں

یونس خان کا موجودہ فیصلہ بھی ان کی جذباتی شخصیت کا آئینہ دار ہے ۔اگرچہ ان کی ون ڈے ٹیم میں شمولیت کے حق میں بڑھ چڑھ کر دلیلیں دینے والے چیف سلیکٹر ہارون رشید اسے ذاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے اپنا دامن بچاگئے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یونس خان کے اس فیصلے پر انھیں افسوس ہے کیونکہ اس فیصلے کی ٹائمنگ درست نہیں۔ وہ یہ فیصلہ اس ون ڈے سیریز کے اختتام پر بھی کر سکتے تھے۔

یونس خان کی ون ڈے سے خود ریٹائر ہونے کی خواہش تو پوری ہوگئی لیکن ابھی ایک خواہش ان کے دل میں مچل رہی ہے اور وہ ہے پاکستانی ٹیم کی قیادت دوبارہ سنبھالنے کی ۔

وہ یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ ماضی میں انھوں نے کپتانی چھوڑ کر غلطی کی تھی لیکن کیا دوبارہ اسے حاصل کرکے وہ غلطی نہیں کریں گے؟